اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من أكل طعاما وذو عين ينظر إليه، فلم يطعمه، أصابه داء يقال له النَفْس‘‘. جو شخص کھانا کھا رہا ہو اور کوئی ذو چشم جاندار اسے دیکھ رہا ہو، پھر وہ اسے کھانا نہ کھلائے ، تو وہ شخص ایسی مرض میں مبتلا ہوگا جسے ’’نَفْس‘‘ کہا جاتا ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دہم)سند میں موجود راوی ابو زکریا یحیی بن محمد بن خُشَیش بن یحیی افریقی (المتوفی بعد ۲۸۰ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[6] میں ابن خُشَیش کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وفي حديثه غرائب ومناكير‘‘. اور اس کی حدیث میں غرائب اور مناکیر ہیں۔
حافظ ذہبی l ’’ميزان‘‘[7] میں ابن خُشَیش کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’أظنه مغربيا، صاحب مناكير‘‘. میرے خیال میں یہ مغربی ہے، صاحبِ مناکیر ہے۔
حافظ عراقی l نے ’’ذيل ميزان‘‘[8] میں حافظ ذہبی l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[9] میں ابن خُشَیش کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’اتهمه أبو سعيد النقاش بالوضع‘‘. ابو سعید نقاش l نے اسے حدیث گھڑنے میں متہم قرار دیا ہے۔
حوالہ جات
[6] تاريخ بغداد:16/327،رقم:7470،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[7] ميزان الاعتدال:4/408،رقم:9625،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بيروت .
[8] ذيل ميزان الاعتدال:ص:45،رقم:155،ت:أبو رضا الرفاعي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1416هـ .
[9] تنزيه الشريعة:1/128،رقم:38،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .