اس روایت کی تحقیق سے
روایت: آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’اگر میں اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو اس حالت میں پاؤں کہ میں عشاء کی نماز میں مشغول ہوں اور سورۂ فاتحہ پڑھ چکا ہوں، اسی دوران میری والدہ مجھے پکار کر کہے: اے محمد! تو میں جواب میں اپنی والدہ سے کہوں گا: حاضر ہوں!‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ اول)ابو خلف یاسین بن معاذ الزَیّات کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال:
حافظ ذَہَبِی l’’میزان الاعتدال‘‘[12] میں لکھتے ہیں:
’’وکان مِنْ کِبَارِ فُقَهَاءِ الکُوفَِة ومُفْتِیْهَا، وأصله یَمَامِيّ، یکنی أبا خلف، قال ابن مَعِین: لیس حدیثُه بِشَيء، وقال البخاري: مُنْکَرُ الحَدِیثِ، وقال النسائي وابن الجُنید: متروکٌ، وقال ابن حِبّان: یروي الموضوعات ...‘‘.
’’یاسین بن معاذ کا شمار کوفہ کے بڑے فقہاء اور مفتیوں میں ہوتا تھا، یاسین اصل میں یمامہ کا رہنے والا تھا،جس کی کنیت ابو خلف تھی،یاسین کے بارے میں ابن مَعِینl نے ’’لیس حدیثه بشيء‘‘ (کلمۂ جرح)، بخاری l نے ’’منکر الحدیث‘‘ (کلمۂ جرح) اورنسائی l اور ابن جنیدl نے ’’متروک‘‘ (کلمۂ جرح) کہا ہے،اور ابن حِبّان l فرماتے ہیں کہ وہ حدیثیں گھڑتا تھا۔۔۔‘‘۔
حافظ ابو حاتم محمد بن ادریس التیمی[13] l فرماتے ہیں:
’’كان رجلاً صالحاً، لا يَعْقِلُ ما يُحَدِّثُ به، ليس بقويّ، مُنْكَرُ الحديث‘‘.
یاسین نیک شخص تھا،جن حدیثوں کو بیان کرتا تھا وہ خودبھی انھیں نہیں سمجھتا تھا، یاسین ’’قوي‘‘ نہیں تھا، ’’منکر الحدیث‘‘ (کلمۂ جرح)تھا۔
امام ابو سعد عبد الکریم بن محمدالتمیمی السمعا نیl ’’الأنساب‘‘[14] میں فرماتے ہیں:
’’مِنْ أهل الکوفة، انْتَقَلَ إلی الیَمَامَة وأقَامَ، ثم سَکَنَ الحِجَازَ، یروي عن أبي الزبیر والزهري، روی عنه عبد الرزاق، کان مِمَّنْ یَروِي الموضوعات عن الثِّقَات، ویَتَفَرَّدُ بالمُعْضَلات عن الأثبات، لا یجوز الاحْتِجَاج به بِحَالٍ‘‘.
یاسین کوفی تھا،پھر یمامہ منتقل ہو کر وہاں اقامت اختیار کی،پھرحجاز میں سکونت اختیار کرلی، ابو الزبیر اور زہری سے روایت نقل کرتا تھا، اور عبد الرزاق، یاسین سے حدیثں نقل کرتا تھا، یاسین ثقہ راویوں کی طرف منسوب کرکے روایتیں گھڑتا تھا،اور ’’أثبات‘‘ (معتبراورثقہ راویوں)سے ’’مُعْضَلات‘‘ نقل کرنے میں متفرد (تنہا) ہوتا تھا، (چنانچہ) یاسین سے احتجاج بہر صورت جائز نہیں ہے۔
حافظ ابن حجرl (۸۵۲ھ) ’’لسان المیزان‘‘[15]میں رقمطراز ہیں:
’’وقال الجوزْجَانِي: لم یَرْض الناسُ حدیثَه، وقال النسائي في ’’التمییز‘‘: لیس بِثِقَةٍ، ولا یُکْتَبُ حَدِیثُه، وقال أبو زُرعة: ضعیف، وقال أبو داود: کان یذهب إلی الإرجاء، وهو متروکُ الحدیث، ضعیف، وهو بِبَیْعِ الزیت أعلم منه بالعلم، وقال ابن عدي: وکل روایاته أو عامتها غیر محفوظة، قال الحاکم والنقاش: روی المناکیر، وقال أبو أحمد الحاکم: لیس بالقوي عندهم، وذکره العُقَیْلِي، والد ولابي، وابن الجارود، وابن شاهین في ’’الضعفاء‘‘.
اور جوزجانیl فرماتے ہیں کہ لوگ یاسین کی حدیثوں سے راضی نہیں تھے، نسائیl فرماتے ہیں کہ یاسین ’’ثقة‘‘ نہیں ہے، اور اس کی حدیثیں نہ لکھی جائیں۔
ابو زُرعہ lنے یاسین کو ’’ضعیف‘‘ کہا ہے،اور ابو داودl فرماتے ہیں کہ وہ ’’إرجاء‘‘ کی جانب چلتا تھا (یعنی اعتقاد رکھتا تھا)، اور وہ ’’متروک الحدیث‘‘ (کلمۂ جرح)، اور ’’ضعیف‘‘ ہے، اور وہ علم سے زیادہ تیل بیچنا جانتا تھا۔
ابن عَدِی lفرماتے ہیں کہ یاسین کی ساری یا اکثر حدیثیں ’’محفوظ‘‘ نہیں ہیں۔
حاکم lاور نقاشl فرماتے ہیں کہ یاسین ’’مناکیر‘‘ نقل کرتا تھا (کلمۂ جرح)۔
خلیلی l نے یاسین کو ’’ضعیف جداًّ‘‘ (کلمۂ جرح)کہا ہے۔
اور ابو احمد حاکم l فرماتے ہیں کہ یاسین محدثین کے نزدیک ’’قوی‘‘ نہیں تھا۔
اور عقیلی l ، دولابی l ، ابن جارودl ، اور ابن شاہین lنے یاسین کو ’’ضعیف‘‘ کہا ہے۔
امام حاکم نیشاپوری l ’’المدخل إلی الصحیح‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’روی عن عمرو بن دینار وأبي الزبیر وغیرهما من الثقات الموضوعات‘‘. یہ عمرو بن دینار اور ابوزبیر جیسے ثقہ راویوں کے انتساب سے من گھڑت روایات نقل کرتا ہے۔ (رقم:۲۳۳، مؤسسة الرسالة ـ بیروت)
حوالہ جات
[12] ميزان الاعتدال:4/358،رقم:9443،تحقيق:علي محمد البجاوي،ناشر:دار المعرفة ـ بيروت .
[13] الجرح والتعدیل:باب الياء،9/380،رقم الترجمة:17005،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .
[14] الأنساب:باب الزاء والياء،/2043،رقم:1363،مجلس دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن ـ الهند،الطبعة الاولى۱397هـ .
[15] لسان الميزان:8/413،رقم:8405،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة ۱۴۲۳هـ .