التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو خالد قُرَشِی عبدالعزیر بن ابان

المتوفی ۲۰۷ھایک روایت میں تذکرہ

ابو خالد قُرَشِی عبدالعزیر بن ابان کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

ابو خالد قُرَشِی عبدالعزیر بن ابان(المتوفی ۲۰۷ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

حافظ ذہبی l ’’میزان الاعتدال‘‘[9] میں رقمطراز ہیں:

’’قال أحمد بن حنبل: لما حدث بحديث المواقيت تركته، وقال يحيى: كذاب خبيث، حدث بأحاديث موضوعة، وقال أحمد: لايكتب حديثه، وقال البخاري: تركوه‘‘.

امام احمدl کہتے ہیں: جب اس نے ’’مواقیت والی حدیث‘‘بیان کی تو میں نے اس سے روایت لینا چھوڑدیا۔امام یحیی l کہتے ہیں: یہ کذاب (جھوٹا)، خبیث ہے،من گھڑت روایتیں بیان کرتا ہے۔احمدl کہتے ہیں:اس کی روایتیں نہیں لکھی جائیں گی۔امام بخاریl  کہتے ہیں: ’’تركوه‘‘ (شدید جرح)

حافظ ذہبی l ان ائمہ کے کلام کے بعد ابو خالد قُرَشی کی زیرِ بحث روایت بھی لائے ہیں۔

حوالہ جات

[9]  میزان الاعتدال: ۲ /۶۲۲، رقم:۵۰۸۲، ت: علی محمد البجاوی، دارالمعرفة - بیروت.

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

تمام رواۃ