اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ایک شخص کا غرائب علم سیکھنے کےلئے آنا، اور آپ ﷺ کا اس سے چند سوالات کرنا، مثلاً حق تعالی کی معرفت، موت کی پہچان، پھر آپ ﷺ کا جواب میں ارشاد فرمانا کہ پہلے اس پر پختگی اختیار کرو، پھر آکر غرائب علم سیکھنا۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ہفتم)سند میں موجود راوی ابو جعفر عبد اللہ بن مسور بن عون بن جعفر بن ابی طالب قریشی ہاشمی مدائنی (المتوفی ما بین 100ھ- 110ھ[10])کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ رقبہ بن مصقلہ عبدی l فرماتے ہیں: ’’ أن عبد الله بن المسور المدائني رجلا من بني هاشم، وضع أحاديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكلاما وهو حق، فاختلط بأحاديث رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاحتمله الناس‘‘[11]. بے شک عبد اللہ بن مسور مدائنی بنی ہاشم کا ایک شخص تھا، اس نے رسول اللہ ﷺ کے انتساب سے احادیث گھڑی ہیں، اور ایسا کلام گھڑا ہے جو کہ حق ہے، جسے یہ رسول اللہ ﷺ کی احادیث کے ساتھ خلط ملط کردیتا، پھر لوگ اس کا تحمل کرلیتے تھے۔
امام بخاری l ’’ التاریخ الکبیر‘‘[12] اور ’’ التاریخ الصغیر‘‘[13] میں فرماتے ہیں: ’’ قال جرير عن رقبة: كان أبو جعفر يضع الحديث أو نحوه‘‘. جریر (یعنی جریر بن عبد الحمید ضبی)، رقبہ (یعنی رقبہ بن مصقلہ عبدی l) سے نقل کرتے ہیں کہ ابو جعفر حدیث یا اس جیسی چیزیں گھڑتا تھا۔
حافظ مغیرہ بن مقسم l فرماتے ہیں: ’’ كان عبد الله بن مسود [ كذا في الأصل، والصحيح: مسور] يفتعل الحديث‘‘[14]. عبد اللہ بن مسور حدیث گھڑتا تھا۔
حافظ ابن سعدl ’’الطبقات الکبرى‘‘[15] میں فرماتے ہیں: ’’وكان معروفا، قليل الحديث‘‘. یہ معروف ہے، قلیل الحدیث ہے۔
حافظ یحیی بن معین l نے عبد اللہ بن مسور کو ’’ ليس بشيء‘‘ کہا ہے[16] ۔
امام ابن مدینی l فرماتے ہیں: ’’يضع الحديث على رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا يضع إلا ما فيه أدب، أو زهد، فيقال له في ذلك، فيقول: إن فيه أجرا‘‘[17]. وہ رسول اللہ ﷺ پر احادیث گھڑتا تھا، اور وہ صرف ادب، زہد سے متعلق احادیث گھڑتا تھا، اس سے اس بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ اس میں اجر ہے۔
حافظ اسحاق بن راہویہ l فرماتے ہیں: ’’روى طلحة بن مصرف عن عمرو بن مرة، عن رجل من بني هاشم، عن النبي صلى الله عليه وسلم أحاديث، زعم بعض الناس أن الهاشمي: علي بن أبي طالب، وإنما هو أبو جعفر المدائني، وكان معروفا عند أهل العلم بوضع الحديث، وروايته إنما هي عن التابعين، ولم يلق أحدا من الصحابة‘‘[18]. طلحہ بن مصرف نے عمرو بن مرہ، عن رجل من بنی ہاشم کے طریق سے احادیث روایت کی ہیں، بعض لوگوں نے یہ گمان کرلیا کہ ہاشمی، یہ علی بن ابی طالب r ہیں، حالانکہ وہ ابو جعفر مدائنی ہے، اور وہ اہل علم کے ہاں حدیث گھڑنے میں معروف تھا، اور اس کی روایت صرف تابعین سے ہے، وہ صحابہ pمیں سے کسی ایک سے بھی نہیں ملا۔
حافظ ابو عبد اللہ l اپنے والد امام احمد بن حنبل l سے نقل فرماتے ہیں: ’’اضرب على حديثه، أحاديثه موضوعة، وأبى أن يحدثنا عنه‘‘[19]. اس کی احادیث کو ترک کردو، اس کی احادیث من گھڑت ہیں، اور میرے والد نے ہمیں ان سے روایت کرکے حدیث بیان کرنے سے انکار کردیا تھا۔
حافظ ابو عبد اللہ l ایک دوسرے مقام پر امام احمد بن حنبل l سے نقل فرماتے ہیں: ’’وقد تركت أنا حديثه، وكان عبد الرحمن بن مهدي لا يحدثنا عنه، وهو أبو جعفر المدايني وهو ابن مسور‘‘[20]. میں نے ان کی احادیث کو ترک کردیا ہے، اور عبد الرحمن بن مہدی l ہمارے سامنے ان سے روایت کرکے بیان نہیں کرتے تھے، اور یہ ابو جعفر مدائنی ہے، اور یہ ابن مسور ہے۔
حافظ ابن برقی l نے ’’تمييز‘‘[21] میں عبد اللہ بن مسور کو ’’ كذاب‘‘ کہا ہے۔
حافظ جوزجانی l ’’ أحوال الرجال‘‘[22] میں فرماتے ہیں: ’’ أحاديثه موضوعة‘‘. اس کی احادیث من گھڑت ہیں۔
امام مسلم l اپنی ’’ صحيح‘‘[23]میں فرماتے ہیں: ’’فأما ما كان منها عن قوم هم عند أهل الحديث متهمون، أو عند الأكثر منهم، فلسنا نتشاغل بتخريج حديثهم، كعبد الله بن مسور أبي جعفر المدائني، وعمرو بن خالد، وعبد القدوس الشامي، ومحمد بن سعيد المصلوب، وغياث بن إبراهيم، وسليمان بن عمرو أبي داود النخعي، وأشباههم ممن اتهم بوضع الأحاديث وتوليد الأخبار‘‘.
وہ راوی جو ائمہ حدیث کی ایک جماعت کے نزدیک متہم ہوں، یا اکثر اہل حدیث کے نزدیک متہم ہوں، ہم ان کی احادیث کی تخریج میں مشغول نہیں ہوں گے، جیسے: عبد اللہ بن مسور ابو جعفر مدائنی، عمرو بن خالد، عبد القدوس شامی، محمد بن سعید مصلوب، غیاث بن ابراہیم اور سلیمان بن عمرو ابو داود نخعی اور ان جیسے لوگ، جن پر حدیث کے گھڑنے اور خبریں ایجاد کرنے کا اتہام ہے۔
حافظ برذعی l فرماتے ہیں: ’’شهدت أبا زرعة، ذكر أبا جعفر المدائني عبد الله بن المسور الذي روى عنه عمرو بن مرة وخالد بن أبي كريمة، فوهنه جدا‘‘[24]. میں ابو زرعہ l کے پاس تھا، تو ابو جعفر عبد اللہ بن مسور مدائنی جو عمرو بن مرہ اور خالد بن ابی کریمہ سے روایت کرتا ہے، کا ذکر کیا گیا، چنانچہ ابو زرعہ l نے عبد اللہ بن مسور کی شدید تضعیف کی۔
امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[25]میں عبد اللہ بن مسور کو ’’متروک الحدیث‘‘ کہا ہے۔
اسی طرح امام نسائی l نے ایک مقام پر عبد اللہ بن مسور کو ’’ كذاب‘‘ کہا ہے[26]۔
حافظ موصلی l فرماتے ہیں: ’’عبد الله بن المسور بن أبي طالب الهاشمي أبو جعفر متروك، ذاهب الحديث، جريء على ما لا يحل له من المحظور‘‘[27]. عبد اللہ بن مسور بن ابی طالب ہاشمی ابو جعفر متروک، ذاہب الحدیث ہے، یہ منع کردہ چیزوں پر جری ہے جو حلال نہیں ہیں۔
امام ابو حاتم l ’’الجرح والتعديل‘‘[28] میں فرماتے ہیں: ’’ الهاشميون لا يعرفونه، وهو ضعيف الحديث، يحدث بمراسيل لا يوجد لها أصل في أحاديث الثقات‘‘. ہاشمی ان کو نہیں پہچانتے، اور وہ ضعیف الحدیث ہے، اور یہ ایسی مراسیل بیان کرتا ہے جن کی اصل ثقات کی احادیث میں نہیں ملتی۔
حافظ عقیلی l ’’الضعفاء الكبير‘‘[29] میں ایک روایت کے تحت عبد اللہ بن مسور کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وكان يضع الحديث‘‘. یہ حدیث گھڑتا تھا۔
حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[30] میں فرماتے ہیں:’’ كان ممن يروي الموضوعات عن الأثبات ويرسل من الأخبار ما ليس لها أصول على قلة روايته لا يحتج بخبره وإن وافق الثقات، كان يحيى بن معين يكذبه‘‘. یہ ان لوگوں میں سے تھا جو ثقہ راویوں کے انتساب سے من گھڑت احادیث روایت کرتے تھے، اور یہ بے اصل اخبار کا ارسال کرتا تھا، قلیل الروایہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی خبر سےاحتجاج نہیں کیا جائے گا، اگر چہ یہ ثقات کی موافقت کرے، یحیی بن معین l نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے۔
حافظ ابو احمد حاكمl ’’ الأسامي‘‘[31] میں فرماتے ہیں: ’’يتهم بالوضع‘‘. اسے متہم بالوضع قرار دیا گیا ہے۔
حافظ دار قطنیl ’’الضعفاء والمتروكون‘‘[32] میں فرماتے ہیں: ’’يرسل عن النبي صلى الله عليه وسلم، وعن ابن مسعود، وابن عباس‘‘. عبد اللہ بن مسور، نبی ﷺ، ابن مسعود r اور ابن عباس q سے مرسلاً روایت کرتا ہے۔
حافظ ابن مندہ l ’’شروط الأئمة‘‘[33] میں فرماتے ہیں: ’’ المشهورون بوضع الأسانيد والمتون: عبد الله بن مسور، وعمرو بن خالد، وأبو داود النخعي سليمان بن عمرو، وغياث بن إبراهيم، ومحمد بن سعيد الشامي، وعبد القدوس بن الحبيب، وغالب بن عبد الله الجزري‘‘. وہ راوی جو سند اور متن گھڑنے میں مشہور ہیں: عبد اللہ بن مسور، عمرو بن خالد، ابو داود نخعی سلیمان بن عمرو، غیاث بن ابراہیم، محمد بن سعید شامی، عبد القدوس بن حبیب اور غالب بن عبد اللہ جزری۔
حافظ ابو نعیم اصبہانیl ’’المسند المستخرج‘‘ [34] میں فرماتے ہیں: ’’وضاع للأحاديث، لايسوى شيء‘‘. یہ احادیث گھڑنے والا ہے، یہ لایسوی شئی ہے۔
حافظ ابن عبد البرl ’’الاستغناء‘‘[35] میں فرماتے ہیں: ’’هو عندهم متروك الحديث، لا يكتب شيء من حديثه، اتهموه بوضع الحديث‘‘. عبد اللہ بن مسور محدثین کے نزدیک متروک الحدیث ہے، اس کی حدیث سے کچھ نہیں لکھا جائے گا، محدثین نے اسے حدیث گھڑنے میں متہم قرار دیا ہے۔
حافظ ابن جوزی l ’’الموضوعات‘‘[36] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’ لأن عبد الله بن المسور يضع الأحاديث ويكذب، وليس بصحابي، لأنه ابن المسور بن عون بن جعفر بن أبي طالب‘‘. اس لئے کہ عبد اللہ بن مسور احادیث گھڑتا ہے، اور جھوٹ بولتا ہے، اور یہ صحابی نہیں ہے، کیونکہ یہ ابن مسور بن عون بن ابی طالب ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’ميزان الاعتدال‘‘[37] میں عبد اللہ بن مسور کو ’’ ليس بثقة‘‘، اور ’’المقتنى‘‘[38] میں’’متهم‘‘ کہا ہے۔
علامہ ابن رجب حنبلیl ’’شرح علل الترمذي‘‘[39] میں فرماتے ہیں: ’’وعبد الله بن المسور هذا متروك، وهو عبد الله بن المسور بن عون بن جعفر بن أبي طالب‘‘. عبد اللہ بن مسور متروک ہے، اور یہ عبد اللہ بن مسور بن عون بن جعفر بن ابی طالب ہے۔
حافظ ابن حجرعسقلانیl ’’الإصابة‘‘[40] میں فرماتے ہیں: ’’ كذبوه، وله ذكر في مقدمة صحيح مسلم‘‘. محدثین نے اسے جھوٹا کہا ہے، اور اس کا ذکر ’’صحیح مسلم‘‘ کے مقدمہ میں ہے۔
علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[41] میں عبداللہ بن مسور کو وضاعین و متہمین کی فہرست میں شمار کر کے امام احمد l کا قول ذکر کیا ہے۔
حوالہ جات
[10] امام بخاری l نے موصوف کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال 100ھ اور 110ھ کے درمیان ہوا ہے(التاريخ الصغير:1/305، ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴06هـ ).
[11] انظر تاريخ بغداد:1۱/414،رقم:5265،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[12] التاريخ الكبير:5/۱95،رقم:616،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۲۹هـ .
[13] التاريخ الصغير:1/305،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴06هـ .
[14] الجرح التعديل:5/169،رقم:782،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[15] الطبقات الكبرى:7/231،رقم:3441،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1418هـ .
[16] الضعفاء الكبير:2/306،رقم:885 ،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۸هـ .
[17] قبول الأخبار ومعرفة الرجال:1/31،ت:أبي عمرو الحسيني بن عمر،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1421هـ .
[18] انظر لسان الميزان:5/14،رقم:4463،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلاميةـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .
[19] العلل ومعرفة الرجال:1/345،رقم:636،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية۱۴22هـ .
[20] العلل ومعرفة الرجال:1/519،رقم:1221،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية۱۴22هـ .
[21] تمييز ثقات المحدثين وضعفائهم:ص:50،رقم:74،ت:عامر حسن صبري التميمي،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴31هـ .
[22] أحوال الرجال:ص:334،رقم:364،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد ـ باكستان، الطبعة الأولى1411هـ .
[23] الصحيح لمسلم:ص:7،ت:محمد فواد عبد الباقي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1412هـ .
[24] انظر تاريخ بغداد:1۱/414،رقم:5265،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[25] الضعفاء والمتروكين:ص:۱49،رقم:350،ت،بوران الضناوي وكمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت، الطبعة الأولى ۱۴۰5هـ .
[26] انظر لسان الميزان:5/14،رقم:4463،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتبة المطبوعات الإسلاميةـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .
[27] انظر الجوهرة في نسب النبي وأصحابه العشرة:2/42،ت:محمد التونجي،دار الرفاعي ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۰3هـ .
[28] الجرح التعديل:5/170،رقم:782،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[29] الضعفاء الكبير:۳/۱۹۶،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[30] المجروحين:2/24،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[31] الأسامي والكنى:۲/۱۳۴،رقم:۱۱۸۲،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى1436هـ .
[32] الضعفاء والمتروکون:ص:۲۶۶،رقم:۳۲۳، ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[33] شروط الأئمة: رسالة في فضل الأخبار وشرح مذاهب أهل الآثار وحقيقة السنن:ص:81 ،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار المسلم ـ الرياض،الطبعة الأولى1416هـ .
[34] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/۷۰،رقم:۱۱۳،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[35] الاستغناء في معرفة المشهورين:1/501،رقم:512،ت:عبد الله مرحول السوالمة،دار ابن تيمية ـ الرياض، الطبعة الأولى1405هـ .
[36] الموضوعات:۳/۸۹ ،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المکتبة السلفيةـ المدینة المنورة،الطبعة الأولى ۱۳۸۶هـ .
[37] ميزان الاعتدال:۲/۵۰۴،رقم:۴۶۰۸،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[38] المقتنى في سرد الكنى:1/۱۴۶،رقم:۱۰۸۳،ت:محمد صالح عبد العزيز المراد،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة،الطبعة1408هـ .
[39] شرح علل الترمذي:2/871 ،ت:همام عبد الرحيم سعيد،مكتبة المنار ـ الأردن،الطبعة الأولى1407هـ .
[40] الإصابة:۵/۱۶۱،رقم:۶۶۵۴،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1415هـ .
[41] تنزيه الشريعة:۱/۷۶،رقم:۱۰۷،ت:عبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .