التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو الہیثم یعلی بن اشدق بن جَرَاد بن معاویہ عقیلی

المتوفی ما بین ۱۶1 – ۱۷۰ھایک روایت میں تذکرہ

ابو الہیثم یعلی بن اشدق بن جَرَاد بن معاویہ عقیلی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند کے راوی ابو الہیثم یعلی بن اشدق بن جَرَاد بن معاویہ عقیلی (المتوفی ما بین ۱۶1– ۱۷۰ھ [4]) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ عبد الاعلی ابو مُسْہِر غسّانی l فرماتے ہیں: ’’كنا نسخر بيعلى بن الأشدق، وكان يدور الآفاق‘‘[5].  ہم یعلی بن اشدق کا مذاق اڑاتے تھے، اور یہ آفاق کا چکر لگاتا تھا۔

حافظ عبد الاعلی ابو مُسْہِر غسّانی l یہ بھی فرماتے ہیں: ’’قدم يعلى بن الأشدق دمشق، وكان أعرابيا، فحدث عن عبد الله بن جَرَاد سبعة أحاديث، فقلنا: لعله حق، ثم جعله عشرة، ثم جعله عشرين، ثم جعله أربعين [فكان] هو ذا يزيد، وكان سائلا يسأل الناس‘‘[6]. یعلی بن اشدق دمشق میں آیا تھا، اور یہ دیہاتی تھا، اس نے عبد اللہ بن جَرَاد کے حوالہ سے سات احادیث بیان کیں، سو ہم نے کہا: ممکن ہے کہ یہ حق ہو، پھر اس نے اسے دس بنا لیا، پھر اسے بیس بنا لیا، پھر اسے چالیس بنا لیا، یہ اضافہ ہی کرتا چلا گیا، یہ سائل تھا، لوگوں سے مانگتا تھا۔

علامہ ابو وہب حَرَّانی l فرماتے ہیں: ’’سمعت يعلى بن الأشدق، وقيل له: كم أتى عليك؟ قال: مائة سنة وست وعشرون، ونصف سنة‘‘[7]. یعلی بن اشدق سے پوچھا گیا: آپ کی عمر کیا ہے؟ تو میں نے ان کو کہتے سنا: ایک سو چھبیس سال اور نصف سال۔

امام بخاری l ’’التاريخ الصغير‘‘[8] میں یعلی بن اشدق کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’لا يكتب حديثه‘‘. اس کی حدیث نہیں لکھی جائے گی۔

حافظ ابن ابی حاتم l ’’الجرح والتعديل‘‘[9] میں فرماتے ہیں: ’’سئل أبو زرعة عن يعلى بن الاشدق، فقال: هو عندي لا يصدق، ليس بشيء، قدم الرَقَّة، فقال: رأيت رجلا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم يقال له: عبد الله بن جَرَاد، فأعطوه على ذلك، فوضع أربعين حديثا، وعبد الله بن جَرَاد لا يعرف، وقرأ علينا كتاب الدلالات، فانتهى إلى حديثه، فترك قراءته‘‘. ابو زرعہ l سے یعلی بن اشدق کے بارے میں پوچھا گیا توآپ نے فرمایا: میرے نزدیک یہ سچ نہیں بولتا، یہ لیس بشیء ہے، اس نے رَقَّہ آکر کہا کہ میں نے اصحاب نبی ﷺ میں سے ایک شخص کو دیکھا ہے، جسے عبد اللہ بن جَرَاد کہا جاتا ہے، سو لوگوں نے اس پر اسے نوازا، پھر اس نے چالیس احادیث گھڑلیں، اور عبد اللہ بن جَرَاد کی معرفت نہیں ہے، (حافظ ابن ابی حاتم l) فرماتے ہیں: ابو زرعہ l نے ہم پر کتاب ’’الدلالات‘‘پڑھی، جب یعلی بن اشدق کی حدیث تک پہنچے تو اس کی قراءت کو ترک کردیا۔

حافظ ابو حاتم l نے یعلی بن اشدق کو ’’ليس بشيء، ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے[10]۔

حافظ ابو العباس احمد بن علی اَبَّار l فرماتے ہیں: ’’سألت أيوب الوَزَّان عن يعلى بن الأشدق، فقال: كان من أهل البادية، قلت: يعلمون موضعه الذي كان يأوي إليه؟ قال: لا، قلت: فكتب عنه أحد غيركم؟ قال: أهل حران، قال: ورأيت له ابنا كأنه أكبر منه، ورأيت له ابنة، وظننت أنها أمه، فقال: هذه ابنتي ولدت لي بعد المائة، وقال: إنما كان سيارة، ولم أر أمره عنده على الصحة، وسمعته مرة يقول: لا يعرف‘‘[11]. میں نے ایوب وَزَّان سے یعلی بن اشدق کے بارے میں پوچھا، تو کہا: یہ دیہات والوں میں سے تھا، میں نے کہا: لوگ اس کی رہائش کو جانتے تھے؟ ایوب وَزَّان نے کہا: نہیں، میں نے کہا: اس سے آپ کے علاوہ کسی نے لکھا ہے؟ ایوب وَزَّان نے کہا: حَرَّان والوں نے، ایوب وَزَّان کہتے ہیں: میں نے اس کا ایک بیٹا دیکھا ہے، جو گویا کہ اس سے بڑا ہے، اور میں نے اس کی ایک بیٹی دیکھی ہے، اور مجھے ایسا لگا کہ یہ اس کی ماں ہے، یعلی بن اشدق نے بتایا کہ میری یہ بیٹی ہے سو سال کے بعد پیدا ہوئی ہے، ایوب وَزَّان نے بتایا کہ وہ گھومتا ہی رہتا تھا، اور میں نے دیکھا کہ ایوب کے نزدیک اس کا معاملہ صحیح نہیں تھا، اور میں نے ایوب وَزَّان کو یہ کہتے سنا: اس کی معرفت نہیں ہے۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[12] میں یعلی بن اشدق کے بارے میں فرماتے ہیں:’’ كان شيخا كبيرا، لقي عبد الله بن جَرَاد، فلما كبر، اجتمع عليه من لا دين له، فدفعوا له شبيها بمائتي حديث نسخة عن عبد الله بن جَرَاد، عن النبي صلى الله عليه وسلم، وأعطوه إياها، فجعل يحدث بها، وهو لا يدري، وقد قال بعض مشايخ أصحابنا: أي شيء سمعت عبد الله بن جَرَاد؟ قال: هذه النسخة، وجامع سفيان الثوري، لا يحل الرواية عنه بحال، ولا الاحتجاج به بحيلة، ولا كتابته، إلا للخواص عند الاعتبار‘‘.

یہ شیخ بڑی عمر کا تھا، یہ عبد اللہ بن جَرَاد سے ملا ہے، سو جب عمر زیادہ ہوگئی تو بے دین لوگ اس کے پاس اکٹھے ہوگئے، انہوں نے تقریباً دو سو احادیث پر مشتمل عبد اللہ بن جَرَاد، عن النبی ﷺ کے طریق سے ایک نسخہ اس کے حوالہ کیا، پھر وہ اس سے حدیث بیان کرتا تھا، اور اسے معلوم بھی نہ ہوتا، اور ہمارے اصحاب کے بعض مشایخ نے یعلی سے کہا: آپ نے عبد اللہ بن جَرَاد سے کیا سنا ہے؟ یعلی نے کہا: یہ نسخہ، اور  جامع سفیان ثوری، (حافظ ابن حبان l فرماتے ہیں) کسی بھی حالت میں اس سے روایت حلال نہیں ہے، اور کسی بھی تدبیر سے اس سے احتجاج اور اس سے لکھنا حلال نہیں ہے، سوائے خواص کے لئے اعتبار کے وقت۔

حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[13] میں یعلی بن اشدق کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يروي عن عمه عبد الله بن جَرَاد، عن النبي صلى الله عليه وسلم أحاديث كثيرة مناكير، وهو وعمه غير معروفين‘‘. یہ اپنے چچا عبد اللہ بن جَرَاد کے حوالہ سے نبی ﷺ کی بہت سی منکر احادیث روایت کرتا ہے، یہ اور اس کا چچا غیر معروف ہیں۔

حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[14] میں آگے جاکر یعلی بن اشدق کے اپنے چچا سے روایت کردہ ایک نسخہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’وبلغني عن أبي مُسْهِر أنه قال: قلت ليعلى بن الأشدق: ما سمع عمك من رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال: جامع سفيان، وموطأ مالك، وشيئا من الفوائد، فان كانت الحكاية عن أبي مُسْهِر صحيحة، فرواية يعلى لهذه النسخة لا يجوز الاشتغال بها‘‘. اور ابو مُسْہِر سے مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ میں نے یعلی بن اشدق سے کہا: آپ کے چچا نے رسول اللہ ﷺ سے کیا سنا ہے؟ اس نے کہا: جامع سفیان، موطأ مالک، اور کچھ فوائد، سو ابو مُسْہِر سے منقول یہ حکایت اگر صحیح ہے تو یعلی کے روایت کردہ اس نسخہ میں اشتغال جائز نہیں ہے[15]۔

حافظ دار قطنیl نے یعلی بن اشدق کو ’’الضعفاء‘‘[16] میں ذکر کیا ہے۔

حافظ ابن عبد البر l ’’الاستيعاب‘‘[17] میں فرماتے ہیں: ’’ويعلى بن الأشدق ليس عندهم بالقوي‘‘. یعلی بن اشدق محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے۔

حافظ ابن قیسرانیl نے یعلی بن اشدق کو ایک حدیث کے تحت ’’ذخيرة الحفاظ‘‘میں ایک مقام پر ’’لا شيء في الحديث‘‘[18] اور دوسرے مقام پر ’’متروك الحديث‘‘[19] کہا ہے۔

حافظ ابن جوزی l ’’التحقيق‘‘[20] میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’وإنما هو مذكور في تسعة يعلى بن الأشدق عن ابن جَرَاد، وهي نسخة موضوعة‘‘. یہ یعلی بن اشدق عن ابن جَرَاد کی نو احادیث میں مذکور ہے، اور یہ من گھڑت نسخہ ہے۔

حافظ ذہبی l ’’سير‘‘[21] میں یعلی بن اشدق کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وكان تالفا، يدور النواحي، ويشحذ‘‘. اور یہ تالف تھا، اور مختلف جہات میں جاکر لوگوں سے مانگتا تھا۔

حافظ ذہبی l نے یعلی بن اشدق کو ’’تاريخ الإسلام‘‘ میں ایک
مقام پر
’’ليس بثقة‘‘[22]  اور دوسرے مقام پر ’’أحد المتروكين‘‘[23]  اور ’’ميزان‘‘[24] میں ’’ كذاب‘‘ کہا ہے۔

حافظ ہیثمی l  نے ’’مجمع الزوائد‘‘[25] میں ایک روایت کے تحت یعلی بن اشدق کو ’’كذاب ‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے یعلی بن اشدق کو ایک روایت کے تحت ’’الإصابة‘‘میں ایک مقام پر ’’أحد الضعفاء المتروكين‘‘[26]، دوسرے مقام پر ’’متروك‘‘[27]، تیسرے مقام پر ’’ساقط الحديث‘‘[28] اور ’’الدراية‘‘[29] میں ’’هالك‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’نتائج الأفكار‘‘[30] میں ایک روایت کے تحت یعلی بن اشدق کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’متروك، ونسب إلى الوضع‘‘. متروک ہے، اور اسے حدیث گھڑنے کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[31] میں یعلی بن اشدق کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال أبو زرعة: ليس بشيء، لا يصدق، وقال ابن حبان: وضعوا له أحاديث، فحدث بها، ولم يدر‘‘. ابو زرعہ l فرماتے ہیں کہ لیس بشیء ہے، سچ نہیں بولتا،، اور حافظ ابن حبان lفرماتے ہیں: لوگ اس کےلئے احادیث گھڑتے تھے، سو یہ انہیں بیان کرتا تھا، اور اسے اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔

حوالہ جات

[4] امام بخاری l نے  ’’التاريخ الصغير‘‘میں یعلی بن اشدق کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال 1۶1 ھ سے 1۷۰ھ کے درمیان ہوا ہے۔ (التاريخ الصغير:2/۱۳۹،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ) .

[5] انظرالجرح والتعدیل:9/303،رقم:1305،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[6] انظرالجرح والتعدیل:9/303،رقم:1305،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[7] انظرتاريخ دمشق:74/184،رقم:10154،ت:محب الدين أبو سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة1421هـ .

[8] التاريخ الصغير:2/۱۶۵،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[9] الجرح والتعدیل:9/303،رقم:1305،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[10] الجرح والتعدیل:9/303،رقم:1305،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[11] انظرتاريخ دمشق:74/184،رقم:10154،ت:محب الدين أبو سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة1421هـ .

[12] المجروحين :۳/۱۴۲،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[13] الكامل في ضعفاء:۹/۱۸۴،رقم:۲۱۸۶،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[14] الكامل في ضعفاء:۹/۱۸۵،رقم:۲۱۸۶،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[15] الكامل في ضعفاء:۹/۱۸۵،رقم:۲۱۸۶،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[16] الضعفاء والمتروکون:ص:405،رقم:605،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .

[17] الاستيعاب في معرفة الأصحاب:3/880،رقم:1487،ت:علي محمد البجاوي،دار الجيل ـ بيروت،الطبعة الأولى1412هـ .

[18] ذخيرة الحفاظ:1/261،رقم:163،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .

[19] ذخيرة الحفاظ:3/1684،رقم:3786،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .

[20] التحقيق فی أحاديث الخلاف:2/77،رقم:1068،ت:مسعد عبد الحميد محمد السعدني،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .

[21] سير أعلام النبلاء:۸/۲۷۲،رقم:65،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1403 هـ .

[22] تاريخ الإسلام:2/726،رقم:114،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۴هـ .

[23] تاريخ الإسلام:۴/۱۰۱۰،رقم:۴۲۱،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۴هـ .

[24] ميزان الاعتدال:2/400،رقم:4242،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[25] مجمع الزوائد:۳/۲۰۹،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ  بيروت .

[26] الإصابة في تمييز الصحابة:1/۴۱۱،رقم:617،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .

[27] الإصابة في تمييز الصحابة:1/۵۷۷،رقم:۱۱۲۲،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .

[28] الإصابة في تمييز الصحابة:۶/۳۱۱،رقم:۸۶۶۰،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .

[29] الدراية في تخريج أحاديث الهداية:۱/۲۷۶،رقم:362،ت:عبد الله هاشم اليماني،دار المعرفة ـ بيروت .

[30] نتائج الأفكار:۵/۱۰۲،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،دار ابن كثير ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .

[31] تنزيه الشريعة:۱/129،رقم:۶2،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

تمام رواۃ