اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’هلك المسوفون‘‘. ٹالنے والے ہلاک ہوگئے۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ پنجم)سند میں موجود راوی ابو القاسم جویبر بن سعید بلخی ازدی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
امام بخاری l فرماتے ہیں کہ مجھ سے علی بن مدینی l نے کہا کہ یحیی بن سعید قطان l فرماتے ہیں: ’’ كنت أعرف جويبرا بحديثين يعني ثم أخرج هذه الأحاديث بعد، فضعفه‘‘[2] . میں جویبر کو دو حدیثوں سے پہچانتا ہوں، یعنی پھر اس کے بعد یحیی l نے اِن احادیث کی تخریج کی، (اور پھر انھوں نے) جویبر کی تضعیف کی۔
علامہ عبد اللہ بن علی بن مدینی l فرماتے ہیں: ’’وسألته يعني أباه عن جويبر بن سعيد، فضعفه جدا، قال: وسمعت أبي، يقول: جويبر أكثر على الضحاك، روى عنه أشياء مناكير‘‘[3]. میں نے اپنے والد علی بن مدینی l سے جویبر کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے جویبر کو شدید ضعیف قرار دیا، نیز میں نے اپنے والد کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ جویبر ضحاک سے کثرت سے نقل کرتا ہے، یہ ضحاک سے منکر خبریں نقل کرتا ہے۔
امام احمد بن حنبلl فرماتے ہیں: ’’جويبر ما كان عن الضحاك فهو على ذاك أيسر، وما كان يسند عن النبي صلى الله عليه وسلم فهي منكرة‘‘[4]. جویبر جو روایت ضحاک سےنقل کرے تو ان کا معاملہ آسان ہے، البتہ جو احادیث آپ ﷺ کے انتساب سے نقل کرے وہ منکر ہیں۔
اور ایک دوسرے مقام پر امام احمد بن حنبلl فرماتے ہیں: ’’ لا تشتغل بحديثه‘‘[5]. اس کی حدیث میں مشغول نہ ہوں۔
حافظ یحیی بن معینl فرماتے ہیں: ’’جويبر ليس بشيء، ضعيف، ما أقربه من عبيدة الضبي ومحمد بن سالم وجابر الجعفي‘‘[6]. جویبر لیس بشیء، ضعیف ہے، یہ عبید، محمد بن سالم اور جابر جعفی کے کتنا ہی قریب ہے۔
حافظ ابو زرعہ l اور حافظ ابو حاتم l نے جویبر بلخی کو ’’ ليس بالقوي‘‘[7] کہا ہے۔
حافظ جوزجانی l فرماتے ہیں: ’’ لا يشتغل به‘‘[8]. اس میں مشغول مت ہو۔
امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری l جویبر کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’أنا أبرأ إلى الله من عهدة جويبر‘‘[9]. میں جویبر کےذمہ سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حافظ ابن حبان l فرماتے ہیں: ’’يروي عن الضحاك أشياء مقلوبة‘‘[10]. یہ ضحاک سے مقلوب احادیث نقل کرتا ہے۔
امام نسائی l فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث‘‘[11] .
اور ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’ليس بثقة‘‘[12] .
امام دار قطنی l نے جویبر بلخی کو ’’متروک الحدیث‘‘[13] کہا ہے۔
علامہ ابو عبید آجری l فرماتے ہیں: ’’سألت أبا داود، عن جويبر، والكلبي؟ فقدم جويبرا، وقال: جويبر على ضعفه، والكلبي متهم‘‘[14]. میں نے ابو داؤد l سے جویبر اور کلبی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جویبر کو مقدم رکھتے ہوئے فرمایا: جویبر ضعف پر ہے، اور کلبی متہم ہے۔
حافظ ابن عدی l فرماتے ہیں: ’’والضعف على حديثه ورواياته بين‘‘[15]. اس کی حدیث اور اس کی روایات میں ضعف ایک واضح چیز ہے۔
حافظ ذہبی l ’’الكاشف‘‘[16] میں جویبر کے متعلق لکھتے ہیں: ’’ترکوه‘‘. محدثین نے اسے متروک قرار دیا ہے، حافظ ذہبی l ہی ’’ديوان الضعفاء‘‘[17] میں فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث‘‘.
حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’تقريب التهذيب‘‘[18] میں فرماتے ہیں: ’’ضعيف جدا‘‘ .
حوالہ جات
[2] التاريخ الكبير:2/236،رقم:2383،ت:مصطفى عبد القادر،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .
[3] تاريخ بغداد:8/181،رقم:3695،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .
[4] الجرح والتعديل:2/541،رقم:2246،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1371هـ .
[5] الكامل في ضعفاءالرجال:2/340،رقم:329، ت:عادل أحمد، وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[6] الجرح والتعديل:2/541،رقم:2246،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1371هـ .
[7] الجرح والتعديل:2/541،رقم:2246،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1371هـ .
[8] ميزان الاعتدال:۱/427،رقم:1593،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفةـ بيروت .
[9] انظر كتاب الموضوعات:2/204،ت:عبد الرحمن محمد عثمان، المکتبة السلفية ـ المدینة المنورة،الطبعة الأولى۱۳۸۶هـ .
[10] المجروحين:1/217،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت .
[11] الضعفاء والمتروكين:ص:73، رقم:106،ت:بوران الضناوي وكمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .
[12] تهذيب الكمال:5/170،رقم:985،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .
[13] ميزان الاعتدال:1/427،رقم:1593،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بيروت .
[14] سؤالات أبي عبيد الآجري:1/336،رقم:578،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي، مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .
[15] الكامل:2/341،رقم:329،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دارالكتب العلمية ـ بيروت .
[16] الكاشف:1/298،رقم:826،ت:محمد عوامة و أحمد محمد نمر الخطيب،مؤسسة علوم القرآن ـ جدة .
[17] المغني في الضعفاء:۱/52،رقم:106،ت: نور الدين عتر،إدارة إحياء ا لتراث الإسلامي ـ قطر .
[18] تقريب التهذيب:ص:143،رقم:987،ت:محمد عوامه،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .