اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تذهب الأرضون كلها يوم القيامة إلا المساجد، فإنها تنضم بعضها إلى بعض‘‘. قیامت کے دن ساری زمینیں ختم ہوجائیں گی سوائے مساجد کے ،چنانچہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل جائیں گی‘‘، بعض مقامات پر اس میں اضافہ کر کے یہ بھی کہا جاتا ہے: ’’پھر مساجد کی زمینیں جنت میں شامل کردی جائیں گی‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دہم)ابوہشام اصرم بن حوشب ہمذانی کندی خراسانی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ یحیی بن معین l نےاصرم کو ’’ كذاب، خبيث‘‘کہا ہے[15]۔
عبد اللہ بن علی بن مدینی l فرماتے ہیں:’’سمعت أبي يقول: أصرم بن حوشب لقيناه بهمذان، ثم حدث بعدنا بعجائب، وضعفه جدا‘‘[16]. میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا: ہمذان میں ہماری اصرم بن حوشب سے ملاقات ہوئی، پھر ہمارے بعد اس نے عجائب بیان کئے، (علامہ عبد اللہ l فرماتے ہیں) اور میرے والد نے اصرم کو’’ضعیف جداً‘‘قرار دیا۔
نیز علامہ عبد اللہ بن علی بن مدینیl ہی فرماتے ہیں: ’’سمعت أبي يقول: كتبت عن أصرم بن حوشب أحاديث عن أبي سنان، فضربت على حديثه‘‘[17]. میں نے اپنے والد کو سناوہ فرمارہے تھے: میں نے اصرم سے ابو سنان کے طریق سے کئی احادیث لکھیں، پھر میں نے اس کی حدیث کو ترک کردیا۔
حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l نے’’أحوال الرجال‘‘[18] میں اسے ’’ضعیف‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابو المفضل صالح بن احمد ہمذانی lفرماتے ہیں: ’’سمعت أبا جعفر بن عبيد، يقول: بلغني أن رجلا من أهل خراسان احتاز، فقال لأصرم بن حوشب: أين كتبت عن نهشل؟ لعلك كتبت عنه في الهواء‘‘[19]. میں نے ابوجعفر بن عبید lکو کہتے ہوئے سنا وہ فرمارہے تھے: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ اہل خراسان میں سے ایک آدمی نے اصرم بن حوشب سے گزرتے ہوئے کہا : تو نے نہشل سے کہاں لکھا ہے، شاید تونے اس سے ہوا میں لکھا ہے؟۔
حافظ ابو حفص عمرو بن علی فلاس l فرماتے ہیں: ’’وأصرم بن حوشب متروك الحديث، حدث بأحاديث مناكير، وكان يرى الإرجاء‘‘[20]. اصرم بن حوشب متروک الحدیث ہے، اس نے منکر احادیث بیان کی ہیں، اور ارجاء کا عقیدہ رکھتا تھا ۔
امام بخاریl نے اصرم کو ’’التاريخ الكبير‘‘[21]، ’’التاريخ الصغير‘‘[22] اور ’’الضعفاء‘‘[23] میں ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ عقیلی l نے ’’الضعفاء‘‘[24] میں امام بخاری l کےکلام پر اعتماد کیا ہے۔
امام مسلم l ’’الكنى‘‘[25] میں اسے ’’متروك الحديث‘‘کہا ہے۔
حافظ ابو حاتم l ، اصرم بن حوشب کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’هو متروك الحديث، فإنه ذكر أ نه سمع من زياد بن سعد فأنكر عليه‘‘[26]. متروک الحدیث ہے، اصرم نے اپنے بارے میں بتایا کہ اس نے زیاد بن سعد سے سماعت کی ہے تو اس پر نکیر کی گئی۔
حافظ ابوبکر احمد بن ہارون بردیجی lنے ’’طبقات الأسماء‘‘[27] میں اسے ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔
امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[28] میں اصرم بن حوشب کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[29] میں فرماتے ہیں: ’’ كان يضع الحديث على الثقات‘‘. یہ ثقہ لوگوں پر احادیث گھڑتا تھا۔
علامہ سبط ابن عجمی l نے ’’الكشف الحثيث‘‘[30] میں حافظ ابن حبان l کے کلام پراکتفاء کیا ہے۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[31] میں اصرم بن حوشب کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’وهو في عداد الضعفاء الذين يسرقون الحديث، وأصرم بن حوشب عامة رواياته غير محفوظة، وهو بين الضعف‘‘. اصرم کا شمار ان ضعفاء میں ہوتا ہے جو سرقۂ حدیث کرتے ہیں، اور اصرم بن حوشب کی اکثر روایات غیر محفوظ ہیں، اور اس کا ضعف واضح ہے۔
امام دارقطنیlنے ’’الضعفاء‘‘[32] میں اسے ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔
امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری l ’’المدخل‘‘[33] میں اصرم بن حوشب کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يروي عن زياد بن سعد وغيره الموضوعات‘‘. یہ زیاد بن سعد وغیرہ کے انتساب سے من گھڑت احادیث روایت کرتا ہے۔
حافظ ابو نعیم اصبہانی l نے اصرم بن حوشب کو ’’المسند المستخرج‘‘[34] میں ’’لا شيء‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابویعلی خلیلیl ’’الإرشاد‘‘[35] میں فرماتے ہیں: ’’ويروي عن مالك وعن الثقات مناكير، روى عنه الأئمة، وذكروا ضعفه، وتركوه‘‘. یہ مالک l اور دیگر ثقہ راویوں کے انتساب سے مناکیر روایت کرتا ہے، ائمہ نے اس سے روایت کیا ہے، اور انہوں نے اس کے ضعف کو ذکر کیا ہے، اور اسے ترک کیا ہے۔
حافظ خطیب بغدادی l’’تاريخ بغداد‘‘[36] میں فرماتے ہیں: ’’وقدم بغداد، وحدث بها، فكتب عنه أهلها، ثم بان لهم كذبه، فتركوا الرواية عنه إلا نفرا منهم‘‘. یہ بغداد آیا تھا، وہاں احادیث بیان کیں ، اہل بغداد نے اس سے احادیث لکھیں، پھر ان کے سامنے اس کا جھوٹ واضح ہوگیا، تو انہوں نے اس سے روایت کو ترک کردیا سوائے چند لوگوں کے ۔
حافظ ابن قیسرانی l ’’تذكرة الحفاظ‘‘[37] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وأصرم هذا كذاب،يضع الحديث‘‘.یہ اصرم کذاب ہے، حدیث گھڑتا ہے۔
حافظ مزی l ’’تهذيب الكمال‘‘[38] میں فرماتے ہیں: ’’وهو من الضعفاء المتروكين‘‘. یہ ضعفاء متروکین میں سے ہے۔
حافظ ذہبی l نے’’ميزان‘‘[39] میں محمد بن عبد المجید تمیمی مفلوج کے ترجمہ میں اسے ’’لیس بثقة‘‘کہا ہے،
حافظ ذہبی l ’’المغنى‘‘ [40] میں فرماتے ہیں :’’تركوه، واتهم‘‘.محدثین نے اسے ترک کردیا ہے،اور اسے متہم قرار دیا ہے۔
حافظ ذہبیl نے اصرم بن حوشب کو ’’میزان‘‘ [41] میں ’’هالك‘‘ اور ’’تاريخ الإسلام‘‘[42] میں ’’أحد المتروكين‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’تلخيص الحبير‘‘[43] میں ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
علامہ ابن عراقl ’’تنزيه الشريعة‘‘[44] میں اصرم بن حوشب کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال يحيى: كذاب خبيث، وقال ابن حبان: كان يضع الحديث عن الثقات‘‘. یحیی l فرماتے ہیں کہ یہ کذاب، خبیث ہے، اور ابن حبان l فرماتے ہیں: یہ ثقہ راویوں کے انتساب سے حدیث گھڑتا ہے۔
حوالہ جات
[15] الجرح والتعديل:۲/۳۳۶،رقم:۱۲۷۳،بمطبعةمجلس دائرة المعارف العثمانيةـ حيدرآباد الدكن، الطبعة ۱۳۱۷ هـ .
[16] تاريخ بغداد:۷/۴۹۱،رقم: ۳۴۴۸،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .
[17] تاريخ بغداد:۷/۴۹۱،رقم:۳۴۴۸،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .
[18] أحوال الرجال:ص:۳۴۷،رقم:۳۸۳،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد، باكستان،الطبعة الأولى1411هـ .
[19] الإرشاد فى معرفة علماءالحديث:2/۶۳3،رقم:372،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى1409هـ .
[20] تاريخ بغداد:۷/۴۹۲،رقم۴۳۴۸،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى142۲هـ .
[21] التاريخ الكبير:۲/۴۶،رقم:۱۶۷۱،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1429هـ .
[22] التاریخ الأوسط:2/۲64،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۶هـ .
[23] الضعفاء الصغير:ص:25،رقم:35،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[24] الضعفاء الكبير:1/118،رقم:142،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة1404هـ .
[25] الكنى والأسماء:2 /879 ،رقم:3558،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقرى،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة، الطبعة الأولى1404هـ .
[26] الجرح والتعدیل:1/332،رقم:1273،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[27] طبقات الأسماء المفردة من الصحابة والتابعين وأصحاب الحديث:1/116،رقم:409،ت:سكينة الشهابي، طلاس للدراسات والترجمة والنشر ـ دمشق، الطبعة الأولى1987هـ .
[28] الضعفاء والمتروكين:ص:۱۵۷،رقم:۶۶،ت،محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .
[29] كتاب المجروحين:۱/۱۸۱،ت:محمودإبراهيم زايد،دارالمعرفة ـ بيروت .
[30] الكشف الحثيث:73،رقم:160،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .
[31] الكامل في الضعفاء:۲/۱۰۱،رقم:۲۱۹،ت:عادل أحمد عبدالموجود وعلي محمد معوض،دارالكتب العلمية ـ بيروت.
[32] الضعفاء والمتروكون:ص:155،رقم:116،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى1404هـ .
[33] المدخل إلى الصحيح:ص:۱۲۲،رقم:۲۱،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى1404هـ .
[34] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/۶۰،رقم:۲۶،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[35] الإرشاد فى معرفة علماءالحديث:1/۶۳۲،رقم:372،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى1409هـ .
[36] تاريخ بغداد: ۷/۴۹1،رقم۴۳۴۸،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى142۲هـ .
[37] تذكرة الحفاظ:ص:۴۴،رقم:83،ت:حمدي بن عبد المجيد،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱۵هـ .
[38] تهذيب الكمال:28/363،رقم:6126،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴07هـ .
[39]ميزان الاعتدال:3/630،رقم:7887،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[40] المغني في الضعفاء:1/141،رقم:774،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .
[41] ميزان الاعتدال:۱/ ۲۷۲،رقم:۱۰۱۷،ت:علي محمد البجاوي،دارالمعرفة ـ بيروت،الطبعة ۱۴۰۶ هـ .
[42] تاريخ الإسلام:۵/۳۶،رقم۴۲،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى 1424هـ .
[43] تلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير:۱/۶۶۷،رقم:۴۴۲،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .
[44] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:1/۴۰،رقم:۳۱۲،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف، عبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .