التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابن ابی سبرہ

ایک روایت میں تذکرہ

ابن ابی سبرہ کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

راوی ابن ابی سبرہ

اب یہ امر غور طلب ہے کہ اس حدیث کے راوی ابن ابی سبرہ کے اندر ساتویں مرتبہ کے علاوہ باقی سارے مراتب جرح پائے جاتے ہیں، اور یہ بھی نہیں کہا جاسکتا ہے کہ اس راوی پر متشددین نے کلام کیا ہے، اس لئے کہ تینوں قسم کے ناقدین نے کلام کیا ہے اور کذب، وضع کا الزام متشدد ومتساہل ومعتدل سبھی قسم کے لوگوں نے لگایا ہے۔

نیز متشددین کا کلام وہاں محل غور ہوتا ہے جہاں کوئی دوسرا ناقدفن مخالفت کرے، اور اگر موافقت کرے پھر تو نقد اور قوی ہوجاتا ہے اور راوی پر کذب ووضع کا الزام لگایا گیا ہو اس کی روایت ناقابل اعتبار ہوگی اور عمل کے لائق نہیں ہوگی، کیونکہ بابِ عمل میں کسی حدیث کے مقبول ہونے کی چھ شرائط ہیں:

1 اتصال السند 2 والعدالة 3 والضبط 4 نفي الشذوذ 5 نفي العلة القادحة 6 العاضد عند الاحتجاج إليه، كما في شرح الألفية للعلامة السخاوي والزين زكريا الأنصاري (ص:۱۱۲/۱).

اس روایت میں عدالت بھی مفقودہے اور کوئی عاضد یعنی مقوی ومؤید تابع یا شاہد بھی نہیں ہے، اس لئے کہ إحياء ليلة النصف من شعبان کے متعلق اگرچہ بعض روایتیں ملتی ہیں جیسا کہ آگے آرہا ہے لیکن صوم نصف شعبان کی اس کے علاوہ اور کوئی روایت نہیں ہے، ایک روایت آگے آرہی ہے جس میں صوم کا ذکر ہے لیکن وہ موضوع ہے، اور علت قادحہ بھی موجود ہے کہ اس کا راوی بالاتفاق مجروح ہے اور ائمہ فن نے اس پر شدید جرح کی ہے، کذب اور وضع حدیث کا الزام لگایا ہے، اور جس حدیث کا راوی کاذب ہو متہم بالوضع ہو وہ موضوع کہلاتی ہے۔

حافظ ابن حجر l طعن فی الراوی کے اسبابِ عشرہ لکھتے ہوئے ’’شرح النخبۃ‘‘ (۸۰)میں لکھتے ہیں:

×فالطعن بكذب الراوي في الحديث النبوي هو الموضوع، والحكم عليه بالوضع إنما هو بطريق الظن الغالب لا بالقطع، إذ قد يصدق الكذوب، لكن لأهل العلم بالحديث ملكة قوية يميزون بها ذلك، وإنما يقوم بذلك منهم من يكون اطلاعه تاما، وذهنه ثاقبا، وفهمه قويا، ومعرفته بالقرائن الدالة على ذلك متمكنة اهـ ÷.

[حدیثِ نبوی میں کذب بولنے کی وجہ سے (محدثین کا) طعن کرنا، (اس روایت کے) موضوع (ہونے کاموجب) ہے، اور اس روایت پر وضع کا حکم ظن غالب کے طور پر ہے نہ کہ قطعی طور پر، کیونکہ خوب جھوٹ بولنے والا بھی کبھی کبھی سچ بولتا ہے، لیکن علماءِ حدیث کو ایک قوی ملکہ حاصل ہوتا ہے جس کی بدولت وہ ان میں فرق کرلیتے ہیں، اور محدثین میں یہ کام صرف وہی کرسکتے ہیں جس کی معلومات کامل ہوں، ذہن روشن، فہم قوی ہو، اور ان چیزوں پر دلالت کرنے والے قرائن کی معرفت انہیں اس امر پر قادر بنادیتی ہے، اھ)]

اب نتیجہ کے طور پر یہ بات نکلتی ہے کہ یہ روایت اگرچہ قطعی طور پر موضوع نہ کہی جاسکے لیکن بطریق ظن غالب اس کو موضوع کہا جاسکتا ہے، اور موضوع روایت سے بالاجماع کوئی حکم شرعی ثابت نہیں ہوتا ہے۔

اور اگر اس کو ضعیف ہی قراردیا جائے جیسا کہ منذری l ،عراقی l ، بُوْصِیْرِی l کی رائے ہے تو بھی یہ حدیث ناقابلِ عمل ہے، اس لئے کہ حدیث ضعیف اگرچہ باب فضائل میں جمہور علماء نے معتبر مانی ہے لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ اس کا ضعف شدید نہ ہو، مثلا اس کا راوی کذاب یا متہم بالکذب، فاحش الغلط نہ ہو، اس کے علاوہ اور بھی بعض شرائط ہیں جو آگے آرہے ہیں، اور یہ حدیث شدید الضعف ہے۔

ایک اور روایت حضرت علی r سے مروی ہے لیکن وہ بھی غیر معتبر ہے:

×قال ابن الجوزي في كتاب الموضوعات(۱۲۹/۲): أنبأنا إبراهيم بن محمد الأزْجِي، قال أنبأنا الحسين بن إبراهيم، أنبأنا أبو الحسين علي بن الحسن بن محمد الكَرْجِي، حدثنا أبو عبد الله الحسين بن علي بن محمد الخطيب، أنبأنا الحاكم أبو القاسم عبد الله بن أحمد الحُسْكَانِي، حدثني أبو القاسم عبد الخالق بن علي المؤذن، حدثنا أبو جعفر محمد بن بسطام القُوْمَسِي، حدثنا أبو جعفر أحمد بن محمد بن جابر، حدثنا أحمد بن عبد الكريم، حدثنا خالد الحِمْصِي، عن عثمان بن سعيد بن كثير، عن محمد بن المهاجر، عن الحكم بن عتيبة، عن إبراهيم، قال: قال علي بن أبي طالب  رضي الله تعالى عنه رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة النصف من شعبان قام فصلى أربع عشرة ركعة، ثم جلس بعد الفراغ فقرأ بأم القرآن أربع عشرة مرة، وقل هو الله أحد أربع عشرة مرة، وقل أعوذ برب الفلق أربع عشرة مرة، وقل أعوذ برب الناس أربع عشرة مرة، وآية الكرسي مرة، و لقد جاء كم رسول الآية، فلما فرغ من صلوته سألته عما رأيت من صنيعه، فقال: من صنع مثل الذي رأيت كان له كعشرين حجة مبرورة، وكصيام عشرين سنة مقبولة، فإن أصبح في ذلك اليوم صائما كان له كصيام سنتين، سنة ماضية، وسنة مستقبلة.

قال ابن الجوزي(۱۳۰/۲): هذا موضوع أيضا، وإسناده مظلم، وكان واضعه يكتب من الأسماء ما وقع له، ويذكر قوما ما يعرفون، وفي الإسناد محمد بن المهاجر، قال ابن حنبل: يضع الحديث، انتهى .

قال السيوطي في اللآلي(۶۰/۲): أخرجه البيهقي في الشعب: أنبأنا عبد الخالق به، وقال: يشبه أن يكون هذا الحديث موضوعا، وهو منكر، وفي رواته قبل عثمان بن أبي سعيد مجهولون، انتهى.

 قلت [أي: الشيخ الجونفوري]: والحسين بن إبراهيم شيخ شيخ ابن الجوزي هو الجَوْزَقَانِي أورد هذا الحديث في كتاب الأباطيل.

فهولاء ثلاثة من الأئمة اتفقوا على كون هذا الحديث موضوعا، وقد تبعهم السيوطي في اللآلي وغيره من كتبه وابن عراق في تنزيه الشريعة (۹۴/۲) والزَبِيْدِي في إتحاف السادة (ص:۴۲۶/۳)÷.

[ابن جوزی l ’’ کتاب الموضوعات‘‘ میں فرماتے ہیں:۔۔۔۔ علی بن ابی طالب t فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نصف شعبان کی رات کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے چودہ رکعات نماز پڑھی، پھر نماز سے فارغ ہو کر بیٹھ کر چودہ مرتبہ سورۂ فاتحہ پڑھی، سورۂ اخلاص چودہ مرتبہ پڑھی، سورۂ فلق چودہ مرتبہ پڑھی، سورۂ الناس چودہ مرتبہ پڑھی، آیت الکرسی ایک مرتبہ پڑھی، آیت شریفہ (لَقَدْ جَاءَکُمْ رَسُوْلٌ) الخ پڑھی۔

 جب آپ ﷺ اپنی نماز سے فارغ ہوگئے تو میں نے آپ ﷺ کو جو کچھ کرتے دیکھا تھا اس کے متعلق دریافت کیا، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو تو نے دیکھا ہے اگر کوئی اس طرح کرے تو اس کے لئے بیس مقبول حج، اور بیس سال کے مقبول روزہ کی طرح ثواب لکھا جائے گا، پھر اگر وہ روزہ کی حالت میں صبح کرے تو اس کے لئے دو سال کے روزوں کا اجر ہے، ایک گزشتہ سال، اور ایک آئندہ سال۔

ابن جوزی l فرماتے ہیں: یہ بھی من گھڑت ہے، اور اس کی سند تاریک ہے، اس روایت کے  گھڑنے والے کو جو سمجھ میں آیا سند کے راویوں کا نام لکھ دیا ہے، اور یہ ایسے لوگوں کا نام ذکر کرتا ہے جو پہچانے نہیں جاتے، اور اس کی سند میں محمد بن مہاجر ہے، جن کے بارے میں احمد بن حنبل l فرماتے ہیں کہ یہ حدیث گھڑتا تھا، ابن جوزی l کا کلام مکمل ہوا۔

سیوطی l ’’لآلی‘‘ میں فرماتے ہیں: اسے بیہقی l نے ’’شعب الایمان‘‘ میں عبد الخالق کی سند سے تخریج کیا ہے، اور فرماتے ہیں: یہ حدیث موضوع کے مشابہ ہے اور یہ منکر ہے، اور اس روایت میں عثمان بن ابو سعید سے پہلے راوی مجہول ہیں، سیوطی l کا کلام مکمل ہوا۔

میں(حضرت جونپوری l) کہتا ہوں کہ ابن جوزی l کے شیخ الشیخ حسین بن ابراہیم جَوْزَقَانی l اس روایت کو ’’کتاب الاباطیل‘‘ میں لائے ہیں۔

یہ تینوں ائمہ اس حدیث کے موضوع ہونے پر متفق ہیں، اور سیوطی l نے ’’لآلی‘‘ وغیرہ کتب میں ان کی اتباع کی ہے، اور اسی طرح ابن عراق l نے ’’تنزیہ الشریعہ‘‘ میں، زِبَیدی نے ’’اتحاف السادۃ‘‘ میں ان کی اتباع کی ہے]

۔۔۔۔

[اس کے بعد حضرت جونپوری l مطلق ماہِ شعبان کے روزوں، نیز ضعیف وموضوع روایتوں کا اعمال میں حکم پر بحث کے بعد لکھتے ہیں]

۱۵/ شعبان کے روزہ کا حکم

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

تمام رواۃ