راویت: ’’پیغمبرﷺ نے فرمایا ہے: اے گستاخ مرید! کسی مرشد کی کبھی برابری نہ کر‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] مثنوي مولوي معنوي:1/184،مترجم:قاضي سجاد حسين،حامد ایند کمبنی ـ لاهور .
ملتی جلتی احادیث
روایت: حضرت عائشہرضی اللہ عنہا کا پیغمبر ﷺ سے سوال کرنا کہ بارش ہوئی اور آپ کے بابرکت کپڑے نہ بھیگے
روایت: ابو جہل نے آپ ﷺ کو بدصورت کہا(معاذ اللہ)، حضرت ابوبکر r نے خوبصورت کہا، آپ ﷺ نے دونوں کو سچا قرار دیا، اور لوگوں کے پوچھنے پر بتایا کہ میں ایک آئینہ ہوں مجھ میں ہر شخص وہی دیکھتا ہے جو وہ خود ہے۔
روایت: حضرت بلال r کا اذان میں لفظ حَیَّ کو عاجزی سے ہَیَّ پڑھنا، اور منافقین کا اس پر اعتراض کرنا اور یہ مطالبہ کرنا کہ کوئی فصیح مؤذن لے آئیں، اور آپ ﷺ کا غصہ میں منافقین سے فرمانا کہ اللہ تعالی کے نزدیک بلال کا ہَیَّ شور وغل کے سینکڑوں حَیَّ اور حَیَّ سے بہتر ہے۔
روایت: اُس شخص کا منہ ٹیڑھا رہ جانا جس نے حضورﷺ کا نام تمسخر کے ساتھ لیا تھا۔
روایت: ’’ المرء مخبوء تحت لسانه‘‘. انسان اپنی زبان میں چھپا ہوا ہے۔