روایت: ’’اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں: میری عزت وجلال کی قسم! اے محمد! میں کسی ایسے شخص کو جہنم کا عذاب نہیں دوں گا جس نے اپنا نام آپ کے نام سے رکھا ہو‘‘۔
حکم: باطل، من گھڑت
تفصیل
روایت پر ائمہ کاکلام
حوالہ جات
[1] معجم الشيوخ:2/43،ت:محمد الحبيب الهيلة،مكتبة الصديق ـ المملكة العربية السعودية،الطبعة الأولى ۱۴08هـ .
[2] الغرائب الملتقطة من مسند الفردوس:۱/۴۷۷،رقم:۱۸۹،ت:العربي الدائز الفرياطي،جمعية دار البر ـ دبئي، الطبعة الأولى1439هـ .
[3] معجم الشيوخ:2/43،ت:محمد الحبيب الهيلة،مكتبة الصديق ـ المملكة العربية السعودية،الطبعة الأولى ۱۴08هـ .
[4] ميزان الاعتدال:۱/۸۲ ،رقم:۲۹۶،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بیروت .
[5] لسان المیزان:۱/۴۰۴،رقم:۳۹۱،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1423هـ .
[6] تاريخ الإسلام:۶/۶68،رقم:۸ ،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۴هـ .
[7] ميزان الاعتدال:۱/۸۲ ،رقم:۲۹۶،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بیروت .
[8] لسان الميزان:۱/۴۰۴،رقم:۳۹۱،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مكتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳ هـ .
[9] مجمع الزوائد:۱/۱۴۶،دار الكتاب العربي ـ بيروت،الطبعة الثالثة۱۴۱۲هـ .
[10] الزيادات على الموضوعات:2/783،ت:رامز خالد حاج حسن،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴31هـ .
[11] تنزيه الشريعة:۱/۲5،رقم:83 ،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،عبد الله محمد صديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .
[12] المغني في الضعفاء:1/59،رقم:243،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .
[13] ديوان الضعفاء:ص:2،رقم:9،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثية ـ مكة المكرمة .
[14] طبقات علماء الحدیث:۲/۳۴۸،ت:أكرم البوشي،إبراهيم الزيبق،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۱۷هـ .
[15] الفوائد المجموعة:۴۲۵،ت:عبد الرحمن بن يحيى المعلمي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة ۱۴۱۶هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور اس نے اس بچے کا نام برکت کے لئے محمد رکھا تو وہ شخص اور بچہ جنت میں ہوں گے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی مسلمان اپنی اہلیہ سے ہمبستر ہو اور وہ یہ نیت کرے کہ اگر یہ حاملہ ہوگئی تو میں اس بچے کا نام محمد رکھوں گا، تو اللہ اسے لڑکا عطا فرمائیں گے، اور جس گھر میں محمد نام کا شخص ہوگا اللہ اس گھر میں خیر وبرکت فرمائیں گے‘‘۔
روایت: ’’نبی ﷺ نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک پکارنے والا پکارے گا: اے محمد! کھڑے ہوجائیں، بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوجائیں، چنانچہ ہر وہ شخص جس کا نام محمد ہو گا وہ کھڑا ہوجائے گا، یہ گمان کرتے ہوئے کہ اسے پکارا گیا ہے، چنانچہ محمد ﷺ کے اکرام کی وجہ سے انہیں نہیں روکا جائے گا‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن دو شخص اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، ان دونوں کو جنت میں جانے کا حکم ہوگا، وہ دونوں کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم کس وجہ سے جنت میں داخل ہونے کے مستحق ہوئے ہیں، جبکہ ہم نے ایسا کوئی عمل نہیں کیا جس کی وجہ سے آپ ہمیں جنت کی اجازت دیں؟ اللہ تعالی فرمائیں گے: میرے بندو داخل ہوجاؤ، میں نے قسم کھائی ہے کہ احمد ومحمد نام کا کوئی شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا‘‘۔
روایت: ’’جب رسول اللہ ﷺ مسواک کرتے تو فرماتے: ’’اللّهم اجعل سواكي رضاك عني، واجعله طهورا وتمحيصا، وبيض به وجهي كما تبيض به أسناني‘‘. اے اللہ! میری مسواک کو میری طرف سے اپنی رضا کا سبب بنا، اور اسے پاکی اور گناہوں سے صفائی کا ذریعہ بنا، اور اس کے ذریعہ سے میرے چہرے کو ایسے چمکا دے جیسے اس کے ذریعہ سے میرے دانتوں کو چمکاتے ہیں‘‘۔