روایت : ’’ لا تنظروا إلى المردان، فإن فيهم لمحة من الحور‘‘.بے ریش لڑکوں کو مت دیکھو، کیونکہ ان میں حوروں کی سی جھلک ہے۔
تفصیل
یہ روایت علامہ عبدالرؤف مناوی l نے ’’کنوز الحقائق‘‘ [1] میں بحوالہ ’’مسند أحمد‘‘ نقل فرمائی ہے، نیز حضرت مولانا اشرف علی تھانوی l نے ’’التشرف‘‘ [2] میں بحوالہ ’’کنوز الحقائق‘‘ اسے تحریر فرمایا ہے، بندہ کو تلاش بسیار کے باوجود یہ روایت ’’مسند أحمد‘‘ ودیگر مسند کتب میں نہیں مل سکی ہے۔
اسی طرح علامہ عجلونی l نے اسے ’’کشف الخفاء‘‘ [3] میں بحوالہ ’’مسندالفردوس‘‘ عن ابی ہریرۃ r ذکر کیا ہے، ’’مسندالفردوس‘‘ یعنی اسانید کے ساتھ دستیاب نہیں، لیکن اس کے متن ’’الفردوس بماثور الخطاب‘‘ میں یہ روایت نہیں مل سکی ہے۔
الحاصل تلاش بسیار کے باوجودمذکورہ روایت سند اًتاحال ہمیں کہیں نہیں مل سکی ،اورجب تک اس کی کوئی معتبر سند نہ ملے اسے آپ ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا موقوف رکھا جائے ،کیونکہ آپﷺ کی جانب صرف ایساکلام وواقعہ ہی منسوب کیا جاسکتا ہے جومعتبر سند سے ثابت ہو،واللہ اعلم ۔
ملتی جلتی احادیث
’’أحبوا العرب لثلاث: لأني عربي، والقرآن عربي، وكلام أهل الجنة عربي‘‘. ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ عربوں سے تین باتوں کی وجہ سےمحبت کیا کرو، کیونکہ میں عربی ہوں، قرآن عربی میں ہے اور جنت والوں کی زبان عربی ہوگی‘‘۔
روایت: ’’من تزيا بغير زيه فقتل فدمه هدر‘‘.جس نے کسی غیر کاروپ و بھیس اختیار کرلیاپھروہ قتل کردیاگیا تواس کا خون معاف ہے۔