روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: جب عید کا دن ہوگا تو عید کے دن فرشتے اللہ رب العزت کی طرف سے ہر ہر جنتی کے لئے ڈبہ میں بند ایک تحفہ لائیں گے جو جنتیوں کو عطاء کردیا جائےگا‘‘۔
تفصیل
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ جنتی جس وقت میں نماز پڑھتے ہوں گے، جب وہ وقت ہوگا تو جتنے جنت کے درخت ہوں گے ان تمام درختوں کے پتوں میں سے اللہ اکبر کی آواز آنی شروع ہو جائےگی، جنتی بھی اللہ اکبر کہیں گے، حور وغلمان سب اللہ اکبر کہیں گے، اس اللہ اکبر کی آواز سے جنتی پہچان لیں گے کہ اس وقت فجر کی نماز پڑھا کرتے تھے، ہم اس وقت ظہر کی نماز پڑھا کرتے تھے، عصر کی نماز پڑھا کرتے تھے، اور جب شام کا وقت ہوگا تو عرش کے پردے گرا دیے جائیں گے‘‘۔
روایت: ’’نبی ﷺ نے فرمایا: جب کوئی آدمی کسی عالم کو سہارا دیتا ہے تو اللہ رب العزت ہر قدم کے بدلہ میں ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا فرماتے ہیں، اور اگر کوئی آدمی محبت وعقیدت کی وجہ سے کسی عالم کے ماتھے یا سر پر بوسہ دیتا ہے تو اللہ رب العزت ہر بال کے بدلہ میں اس کو نیکی عطا فرماتے ہیں‘‘۔
روایت:’’قیامت کے دن مؤمن اللہ تعالی کا دیدار کرے گا، اتنا مزہ آئے گا کہ مؤمن وہاں سے جنت میں جانا ہی نہیں چاہے گا،چنانچہ فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ان کو جنت میں لے جاؤ‘‘، ایک مقام پر یہ حدیث ان الفاظ سے منقول ہے: ’’تعجب کرتا ہوں میں ان لوگوں پر جن کو قیامت کے دن فرشتے نور کی زنجیر سے باندھ کر جنت میں کھینچ کر لے جائیں گے‘‘۔
روایت: ’’نبی ﷺ نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک پکارنے والا پکارے گا: اے محمد! کھڑے ہوجائیں، بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوجائیں، چنانچہ ہر وہ شخص جس کا نام محمد ہو گا وہ کھڑا ہوجائے گا، یہ گمان کرتے ہوئے کہ اسے پکارا گیا ہے، چنانچہ محمد ﷺ کے اکرام کی وجہ سے انہیں نہیں روکا جائے گا‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: جو دن آپ گناہوں کے بغیر گزاریں ایسے ہی ہے جیسے وہ دن میری صحبت میں گزارا ہو‘‘۔