التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ششم)

روایت: درود ماہی اور اس کے فضائل

تفصیل

’’ آپ ﷺ مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے کہ ایک اعرابی ایک بڑے برتن میں ایک مچھلی ڈالے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا کہ اس مچھلی کو تین دن سے آگ پر پکا رہا ہوں لیکن آگ اس پر اثر نہیں کرتی، حضور ﷺ نے مچھلی سے پوچھا کہ تو کیوں نہیں پکتی؟ تو مچھلی کو اللہ تعالی نے قوتِ گویائی بخشی، مچھلی کہنے لگی کہ میں پانی میں تیر رہی تھی کہ ایک آدمی کے درود شریف پڑھنے کی آواز میرے کانوں میں پہنچی، میں نے اور تو کچھ نہیں کیا البتہ میں وہ درود سنتی رہی، آپ ﷺ نے فرمایا: وہ درود سناؤ، مچھلی نے وہ درود سنایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: دنیا کی آگ تو  کیا اسے دوزخ کی آگ بھی نہیں جلا سکتی‘‘۔

بعض مقامات پر یہ روایت اس طرح بیان کی جاتی ہے:ایک تجارتی بیڑہ سمندر میں جارہا تھا کہ اس میں موجود ایک شخص اونچی آواز سے درود پڑھنے لگا، اور ایک مچھلی وہ درود سن کر مست ہوگئی اور جھومتی ہوئی اس آواز کے پیچھے آتی رہی، اور درود سنتی رہی، اتفاق سے وہی مچھلی ماہی گیر کے جال میں پھنس گئی، ماہی گیر اسے بیچنے کےلئے بازار لے آیا، ایک صحابی r  نے اس نیت سے وہ مچھلی خرید لی کہ اسے پکا کر رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں پیش کروں گا، چنانچہ اس صحابی r  نے مچھلی کو پکانے کےلئے چولہے پر رکھااور آگ جلانا چاہی، لیکن آگ جل کر بجھ جاتی، چنانچہ صحابی r  تھک کر مچھلی کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے آیا، اور سارا قصہ سنایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: دنیا کی آگ تو  کیا اسے دوزخ کی آگ بھی نہیں جلا سکتی۔

پھر رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی r سے فرمایا: اے علی! اس درود کو  لکھو اور لوگوں کو سکھلاؤ، ان شاء اللہ اس درود کے پڑھنے والے پر دوزخ کی آگ حرام ہوجائے گی‘‘۔

اس لئے اسے درود ماہی کہا جاتا ہے۔

اور بعض مقامات پر یہ بھی بیان کیا جاتا ہے: روزانہ فجر کی نماز کے بعد ایک سو گیارہ مرتبہ اس درود کے پڑھنے سے اللہ جل شانہ پڑھنے والے کی حفاظت اور عزت افزائی کےلئے ایک فرشتہ مقرر فرما دیتے ہیں۔

 اور وہ درود ماہی یہ ہے:’’ اللهم صل على محمد وعلى آل محمد خير الخلائق وأفضل البشر وشفيع الأمم يوم الحشر والنشر، وصل على سيدنا محمد وعلى آل سيدنا محمد بعدد كل معلوم لك، وصل على محمد وعلى آل محمد وبارك وسلم، وصل على جميع الأنبياء والمرسلين، وصل على كل الملائكة المقربين وعلى عباد الله الصالحين وسلم تسليما كثيرا كثيرا، برحمتك وبفضلك وبكرمك يا أكرم الأكرمين برحمتك يا أرحم الراحمين، يا قديم يا دائم يا حي يا قيوم يا وتر يا أحد يا صمد يا من لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد، برحمتك يا أرحم الراحمين‘‘.

ملتی جلتی احادیث