روایت: درود ماہی اور اس کے فضائل
تفصیل
’’ آپ ﷺ مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے کہ ایک اعرابی ایک بڑے برتن میں ایک مچھلی ڈالے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا کہ اس مچھلی کو تین دن سے آگ پر پکا رہا ہوں لیکن آگ اس پر اثر نہیں کرتی، حضور ﷺ نے مچھلی سے پوچھا کہ تو کیوں نہیں پکتی؟ تو مچھلی کو اللہ تعالی نے قوتِ گویائی بخشی، مچھلی کہنے لگی کہ میں پانی میں تیر رہی تھی کہ ایک آدمی کے درود شریف پڑھنے کی آواز میرے کانوں میں پہنچی، میں نے اور تو کچھ نہیں کیا البتہ میں وہ درود سنتی رہی، آپ ﷺ نے فرمایا: وہ درود سناؤ، مچھلی نے وہ درود سنایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: دنیا کی آگ تو کیا اسے دوزخ کی آگ بھی نہیں جلا سکتی‘‘۔
بعض مقامات پر یہ روایت اس طرح بیان کی جاتی ہے:ایک تجارتی بیڑہ سمندر میں جارہا تھا کہ اس میں موجود ایک شخص اونچی آواز سے درود پڑھنے لگا، اور ایک مچھلی وہ درود سن کر مست ہوگئی اور جھومتی ہوئی اس آواز کے پیچھے آتی رہی، اور درود سنتی رہی، اتفاق سے وہی مچھلی ماہی گیر کے جال میں پھنس گئی، ماہی گیر اسے بیچنے کےلئے بازار لے آیا، ایک صحابی r نے اس نیت سے وہ مچھلی خرید لی کہ اسے پکا کر رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں پیش کروں گا، چنانچہ اس صحابی r نے مچھلی کو پکانے کےلئے چولہے پر رکھااور آگ جلانا چاہی، لیکن آگ جل کر بجھ جاتی، چنانچہ صحابی r تھک کر مچھلی کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے آیا، اور سارا قصہ سنایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: دنیا کی آگ تو کیا اسے دوزخ کی آگ بھی نہیں جلا سکتی۔
پھر رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی r سے فرمایا: اے علی! اس درود کو لکھو اور لوگوں کو سکھلاؤ، ان شاء اللہ اس درود کے پڑھنے والے پر دوزخ کی آگ حرام ہوجائے گی‘‘۔
اس لئے اسے درود ماہی کہا جاتا ہے۔
اور بعض مقامات پر یہ بھی بیان کیا جاتا ہے: روزانہ فجر کی نماز کے بعد ایک سو گیارہ مرتبہ اس درود کے پڑھنے سے اللہ جل شانہ پڑھنے والے کی حفاظت اور عزت افزائی کےلئے ایک فرشتہ مقرر فرما دیتے ہیں۔
اور وہ درود ماہی یہ ہے:’’ اللهم صل على محمد وعلى آل محمد خير الخلائق وأفضل البشر وشفيع الأمم يوم الحشر والنشر، وصل على سيدنا محمد وعلى آل سيدنا محمد بعدد كل معلوم لك، وصل على محمد وعلى آل محمد وبارك وسلم، وصل على جميع الأنبياء والمرسلين، وصل على كل الملائكة المقربين وعلى عباد الله الصالحين وسلم تسليما كثيرا كثيرا، برحمتك وبفضلك وبكرمك يا أكرم الأكرمين برحمتك يا أرحم الراحمين، يا قديم يا دائم يا حي يا قيوم يا وتر يا أحد يا صمد يا من لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد، برحمتك يا أرحم الراحمين‘‘.
ملتی جلتی احادیث
روایت: ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا شبہ کے ساتھ سوچنا کہ رسول اللہ ﷺ مسجد ضرار کے معاملہ میں پردہ پوشی کیوں نہیں کرتے؟ پھر اسی فکر میں صحابی رضی اللہ عنہکا سوجانا، اور خواب میں مسجد ضرار کو گند سے بھرا ہوا دیکھنا اور اس کے پتھروں سے دھواں کا اٹھنا، اور اس دھواں کا صحابی رضی اللہ عنہکے حلق میں جانا، اور پھر صحابی رضی اللہ عنہ کا اپنے اوپر افسوس کرنا۔
روایت: ’’درج ذیل کلمات پڑھنے پر حضور ﷺکی سفارش کہ حساب نہ لیا جائے، اور یہ کہ اللہ تعالی نے بخش دیا:
’’اللهم آمنّا في أوطاننا، وأصلحنا وأصلح ولاة أمورنا، اللهم صل على محمد كلما ذكره الذاكرون، وكلما غفل عن ذكره الغافلون‘‘. اے اللہ! ہمارے وطنوں کو امن کا گہوارہ بنا، اور ہمیں نیک بنا اور ہمارے حاکموں کو نیک بنا، اے اللہ! محمدﷺ پر رحمت کاملہ نازل فرما جب بھی یاد کرنے والے انہیں یاد کریں اور جب بھی غافل ہونے والے ان سے غافل ہوں‘‘۔
روایت: اس درود کے پڑھنے والے کو آسمان وزمین بھر کر اور عرش عظیم کے برابر ثواب ملتا ہے: ’’ اللهم صل على محمد ملء السموات والأرض وملء العرش العظيم‘‘.
روایت: آپ ﷺ کا ارشاد ہے:’’مومن دعا میں خدا سے دوزخ سے پناہ چاہتا ہے، دوزخ اُس سے پناہ چاہتی ہے کہ اے خدا! مجھے فلاں سے دور رکھ‘‘۔
روایت: ’’آپﷺ کا ارشاد ہے: جس نے یہ درود شریف پڑھا توگویا مجھ پر سارے درود بھیج دئے:
’’اللهم صل على محمد بعدد كل ذكره ألف ألف مرة‘‘.اے اللہ! محمدﷺ پر رحمت کاملہ نازل فرما ان کے ہر مرتبہ ذکر کے عدد کے بقدر لاکھوں مرتبہ‘‘۔