روایت: ’’حسنات الأبرار سیئات المقربین‘‘. نیک لوگوں کی نیکیاں مقربین کے گنا ہ ہوتے ہیں۔
حکم: یہ نبی اکرمﷺ کا قول نہیں ہے،بلکہ ابوسعید خرّازl یاذو النون مصری l یا جنید بغدادی l کا کلام ہے۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] تاريخ بغداد:۵/ ۴۵۶، رقم:۲۲۹۴، ت:بشار عواد معروف، دار الغرب الإسلامي– بيروت، ط:۱۴۲۲ هـ .
[2] تاريخ دمشق:۵/ ۱۳۷، ت: عمربن غرامة، دارالفکر – بيروت، ط: ۱۴۱۵ هـ .
[3] أحاديث القصاص:ص:۸۴، رقم:۵۸، ت:محمد بن لطفی الصباغ،المکتب الإسلامی– بیروت، ط:۱۴۰۵ هـ. .
[4] المقاصد الحسنة: ص:۲۲۰، رقم:۴۰۳، ت: محمد عثمان الخشت، دار الكتاب العربي – بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۰۵ هـ .
[5] كشف الخفاء: ص: ۱/۴۰۶، رقم:۱۱۳۷، ت:يوسف بن محمود، مكتبة العلم الحديث - جدة، ط: ۱۴۲۱ هـ .
[6] المصنوع:ص:۹۴،رقم:۱۱۱، ت:عبد الفتاح أبو غدة، مكتب المطبوعات الإسلامية- حلب،ط:۱۴۱۴ هـ .
[7] الجد الحثيث:ص:۸۶ ، رقم:۱۲۸، ت: فواز أحمد زمرلي، دار ابن حزم- بیروت، ط:۱۴۱۸ هـ. .
[8] ان کا پورا نام ثوبان بن ابراہیم ابوالفیض ذو النون مصری l ہے،بڑے درجے کے عابدوزاہد تھے،۲۴۵ھ میں ان کی وفات ہوئی۔
[9] اللؤلؤ المرصوع:ص:۷۳ ، رقم:۱۷۳، ت: فواز أحمد زمرلي،دار البشائر الإسلامية- بیروت،ط:۱۴۱۵ هـ. .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’عن عائشة قالت: بينا رأس رسول الله صلى الله عليه وسلم في حِجري ليلة ضاحية إذ قلت: يا رسول الله! هل يكون لأحد من الحسنات عددُ نجوم السماء؟ قال: ’’ نعم عمر‘‘. قلت: فأين حسنات أبي بكر؟ قال: ’’إنما جميع حسنات عمر كحسنة واحدة من حسنات أبي بكر‘‘.
ترجمہ: حضرت عائشہ R سے روایت ہے،فرماتی ہیں: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ روشن رات میں رسول اللہ ﷺ کا سر مبارک میری گود میں تھا، اس دوران میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! کیا کسی شخص کی ستاروں کی تعداد کے برابر نیکیاں ہو سکتی ہیں؟ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ہاں عمر کی ‘‘۔میں نےعرض کیا:پھر ابو بکر r کی نیکیاں کہاں گئیں؟حضور ﷺ نے فرمایا: ’’عمر کی تمام نیکیاں ابو بکر کی ساری نیکیوں میں سے ایک نیکی کے برابر ہے‘‘۔
روایت: ’’ لم يكن يُرى له ظِلٌ .....‘‘ .
حضور ﷺ کا سایہ دکھائی نہیں دیتا تھا۔۔۔‘‘۔
روایت: ’’لولاك لما خلقت الأفلاك‘‘.تر جمہ:الله تعالىٰ كا ارشاد ہے كہ اگر آپ ﷺ نہ ہوتے،میں افلاک کو پیدانہ کرتا۔
حديث: ’’من عرف نفسه فقد عرف ربه‘‘ . ’’نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:جس نےاپنے نفس کو پہچانا،اس نےاپنے رب کو پہچان لیا‘‘۔
روایت: ’’الناس نيام، فإذا ماتوا انتبهوا‘‘. لوگ سورہے ہیں مرجائیں گے تو بیدار ہوجائیں گے۔