روایت: ’’برتن دھوکر پینے سے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] إحياء علوم الدين:2/۶،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۰۲هـ .
[2] قوت القلوب:۳/1424،ت:محمودإبراهيم محمد رضواني،دار التراث ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[3] شرح سنن أبي داود:۱۵/۵۱۵،ت:ياسر كمال وأحمد سليمان،دار الفلاح ـ الفيوم،الطبعة الأولى ۱۴37هـ .
[4] مفاتيح الجنان في شرح شرعة الإسلام:1/261،المطبعة العثمانية،الطبعة1317هـ .
[5] نزهة المجالس:۲/۴۹۹،المكتبة العصرية ـ بيروت،الطبعة1438هـ .
[6] ہمارے ذکر کردہ اصل کو حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’ نزهة النظر‘‘ میں ان الفاظ سے نقل کیا ہے:
’’ومثال المرفوع من القول حكما لا تصريحا: أن يقول الصحابي ـ الذي لم يأخذ عن الإسرائيليات ـ ما لا مجال للاجتهاد فيه، ولا له تعلق ببيان لغة أو شرح غريب، كالإخبار عن الأمور الماضية: من بدء الخلق وأخبار الأنبياء، أو الآتية: كالملاحم، والفتن، وأحوال يوم القيامة، وكذا الإخبار عما يحصل بفعله ثواب مخصوص أو عقاب مخصوص.
وإنما كان له حكم المرفوع، لأن إخباره بذلك يقتضي مخبرا له، و ما لا مجال للاجتهاد فيه يقتضي موقفا للقائل به، ولا موقف للصحابة إلا النبي صلى الله عليه وسلم، أو بعض من يخبر عن الكتب القديمة، فلهذا وقع الاحتراز عن القسم الثاني‘‘.
قول میں مرفوع حکمی کی مثال جو تصریحی نہ ہو: ایسا صحابی r جو اسرائیلیات سے (روایات) نہ لیتا ہو، ایسی بات نقل کرے جس میں اجتہاد کی کوئی گنجائش نہ ہو، اور نہ ہی اس قول کا کسی لغت کےبیان سے تعلق ہو، یا کسی غریب لفظ کی شرح سے تعلق ہو، جیسے: گزشتہ امور کی خبر دینا، جیسے: بدءالخلق، اور انبیاء E کی خبریں، یا آنے والے امور کی خبر دینا، جیسے: ملاحم اور فتن اور قیامت کے دن کے احوال، اور اسی طرح ایسے امر کی خبر دینا جس کے کرنے میں کوئی مخصوص ثواب ملتا ہو یا مخصوص سزا ملتی ہو۔
اور ایسے امور مرفوع کے حکم میں صرف اس لئے ہیں کہ صحابی r کا ایسے امور کی خبر دینا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ صحابی r کو کوئی ان امور کی خبر دینے والا ہے، اور جن چیزوں میں اجتہاد کی کوئی گنجائش نہ ہو وہ تقاضا کرتی ہیں کہ اس خبر کا قائل واقف کیا گیا ہے، اورصحابہ p کو واقف بنانے والے صرف نبیﷺہیں، یا وہ بعض لوگ جو قدیم کتب سے خبر دیتے تھے، سو یہی وجہ ہے کہ دوسری قسم سے احتراز کیا گیا ہے(نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر:ص:235،ت:عبد الله بن ضيف الله الرحيلي،مطبعة سفير ـ الرياض،الطبعة الأولى1422هـ) .
[7] سنن الترمذي:4/259،رقم:1804،ت:إبراهيم عطوه عوض،مطبعة مصطفى البابي ـ مصر،الطبعة الأولى1382هـ .
[8] مسند أحمد:34/325،رقم:20724،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1420هـ .
[9] سنن ابن ماجه:4/409،رقم:3271،ت:شعيب الأرنؤوط،دار الرسالة العالمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1430هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت:’’ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: کھانے کے ٹکڑے اٹھانا حوروں کا مہر ہے‘‘۔
حکایت: آپﷺ کو عرب کے قافلے کی فریاد پہنچنے کا قصہ جو پانی نہ ہونے کی وجہ سے عاجز ہوگیا، اور موت کے قریب تھا، اونٹ اور لوگ پیاس سے زبانیں باہر نکالے ہوئے تھے، اس کے بعد آپ ﷺ کے معجزے سے قافلے والوں کےلئے ایک حبشی غلام کی مشک سے سارے قافلے کا سیراب ہونا، اور پھر غلام کی مشک کا بھر جانا، نیز آپ ﷺ کے معجزے سے اس حبشی غلام کا سفید ہوجانا۔
روایت: آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من ترك الأربع قبل الظهر لم تنله شفاعتي‘‘. جس نے ظہر سے پہلے کی چار سنتیں چھوڑ دیں، وہ میری شفاعت نہیں پائے گا‘‘۔
روایت: عرب کے سرداروں کا آنحضورﷺ سے جھگڑنا کہ ملک بانٹ لیجئے تاکہ جھگڑا نہ ہواور آنحضورﷺ کا ان کو جواب دینا کہ میں اس حکومت میں اللہ کی جانب سے مقرر کیا گیا ہوں اور جانبین سے ان کی بحث، پھر سیلاب کا آنا اور اسے روکنے کےلئے سرداروں نے اپنے نیزے ڈالے جنہیں سیلاب بہا کر لے گیا، اور آپ ﷺ نے اس میں ایک شاخ ڈالی تو سیلاب مڑ کر سمندر کی جانب چلا گیا۔
روایت: آپ ﷺ کا بچپن میں گم ہونا، پھر حضرت حلیمہ سعدیہ کا پریشان ہونا، اور ایک بوڑھے کا حضرت حلیمہ کو بتوں کے پاس لے جانا، اور آپ ﷺ کا نام سن کر بتوں کا گرجانا۔