’’جس وقت حضرت ابراہیم e اپنے بیٹے کو ذبح کرچکے تو چھری اوپر پھینک دی، تب پروردگار کا حکم ہوا کہ جو اس چھری کے نیچے گردن جھکادے گا وہ حلال ہے، چنانچہ ٹڈی اور مچھلی نے گردن چھری کے نیچے جھکادی، وہ حلال ہوگئی‘‘،یہ معتبر روایت نہیں ہے۔
تفصیل
’’سوال: جس وقت حضرت ابراہیم e اپنے بیٹے کو ذبح کرچکے تو چھری اوپر پھینک دی، تب پروردگار کا حکم ہوا کہ جو اس چھری کے نیچے گردن جھکادے گا وہ حلال ہے، چنانچہ مَلَخ(ٹڈی)اور مچھلی نے گردن چھری کے نیچے جھکادی وہ حلال ہوگئی، کیا یہ واقعہ سچا ہے؟
جواب: چھری پھینک دینے اور ماہی و مَلَخ [مچھلی اور ٹڈی]کے حلال ہوجانے کی کوئی معتبر روایت نہیں، اور ماہی وملخ کے حلال ہونے کے لئے دلیل: {أحلت لنا ميتتان}. [ہمارے لئے دو میت حلال ہیں] کافی ہے۔ فقط، والله تعالىٰ اعلم!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] فتاوی دار العلوم دیوبند :ذبح کے بغیر مچھلی اور ٹڈی کے حلال ہونے کی من گھڑت روایت،۱۸/۱۶۶ مکتبہ حقانیہ ملتان۔