{إذا تحیرتم في الأمور فاستعينوا بأهل القبور}. جب تم کاموں میں پریشان ہوجاؤ تو قبر والوں سے مدد مانگ لیا کرو، یہ حدیث من گھڑت ہے۔
تفصیل
’’۔۔۔ اور عوام میں جو مشہور ہے: {إذا تحیرتم في الأمور فاستعينوا بأهل القبور}. [جب تم کاموں میں حیران وپریشان ہوجاؤ تو قبر والوں سے مدد مانگ لیا کرو] یہ حدیث موضوع ہے، {صرح به ابن تيمية في الصراط المستقيم} [حافظ ابن تیمیہ l نے صراط مستقیم میں اس کی صراحت کی ہے](ص: ۱۶۲)۔واللہ تعالیٰ اعلم!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] امدادالاحکام : ایک عمل مشمل بربدعات وافعال شرکیہ، ۱/۲۰۰، مکتبہ دار العلوم کراچی۔
علامہ ابن کمال پاشا l نےاپنے رسالہ ’’الاربعین فی الحدیث‘‘ (مخطوط:ص:۲)میں یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے: {الحديث الثالث: إذا تحيرتم في الأمور فاستعينوا من أصحاب القبور}.
علامہ ابن کمال پاشا l کے انتساب سے علامہ عجلونی l نے ’’ كشف الخفاء‘‘(۱/۱۰۱)میں،اور شیخ اسماعیل استنبولی l نے ’’روح البیان‘‘ (۵/۱۷۸)میں اسے نقل کیا ہے۔
حافظ ابن تیمیہ l نے ’’اقتضاء الصراط المستقيم‘‘ (۲/۱۹۶)میں اسے من گھڑت کہاہے، اسی طرح علامہ خفاجی l نےبھی ’’حاشیۃ الشہاب‘‘ (۳۹۹/۹)میں اس کے حدیث ہونے کی نفی کی ہے، اور علامہ شمس الدين افغانی l نے ’’جہود علماء الحنفیہ فی ابطال عقائد القبوریہ‘‘ (ص:۱۲۷۷)میں اسے من گھڑت کہاہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ l کی عبارت ملاحظہ ہو :
{ما يرويه بعض الناس من أنه قال: إذا تحيرتم في الأمور فاستعينوا بأهل القبور أو نحو هذا، فهو كلام موضوع مكذوب باتفاق العلماء}.
علامہ خفاجی l کی عبارت ملاحظہ ہو :
{ولذا قيل: إذا تحيرتم في الأمور فاستعينوا من أصحاب القبور، إلا أنه ليس بحديث كما توهم، ولذا اتفق الناس على زيارة مشاهد السلف والتوسل بهم إلى الله وإن أنكر بعض الملاحدة في عصرنا، والمشتكی إليه هو الله}.
علامہ شمس الدين افغانی l کی عبارت ملاحظہ ہو :
{الشبهة التاسعة: استدلال القبورية بأسطورتين وثنيتين: الأولى: حديث مفتعل مصنوع: إذا تحيرتم في الأمور فاستعينوا من أهل القبور. والثانية: حديث مختلق موضوع: إذا أعيتكم الأمور فعليكم بأصحاب القبور.
الجواب الأول: أنهما من الأساطير المفتعلة الموضوعة، والروايات المختلقة المصنوعة، التي وضـعها القبورية أشباه عبـدة الأصنام، الجهـلة الطغـام الذين هم أضـل من الأنعام.
والجواب الثاني: أنهما مع كونهما مكذوبة على رسول الله صلى الله عليه وسلم مناقضة لدين الإسلام، وهما مما أوقع عباد القبور في الشرك الذي كان عليه عباد الأصنام}.