روایت: عورت کو چرخے کے کاتنے کی آواز پر اللہ کے راستے میں تکبیر اور اپنا کاتا ہوا کپڑا شوہر کو پہنانے پر ہر ہر تانے بانے کے بدلے ایک لاکھ نیکیوں کا ملنا۔
حکم: حافظ سیوطی l فرماتے ہیں: ’’یہ گھڑا ہوا جھوٹ ہے‘‘، علامہ ابن حجر ہیتمی l اور علامہ عجلونی l نے حافظ سیوطیl کے قول کی موافقت کی ہے، اس لئے اس روایت کو آپﷺکے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں ہے، واللہ اعلم۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] الفردوس بمأثور الخطاب:2/399،رقم:3772ت:السعيد بن بسيوني زغلول،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[2] نزهة المجالس:2/28،المكتبة العصرية ـ بيروت،الطبعة1438هـ .
[3] الحاوي للفتاوِی:2/44،ت:عبد اللطیف حسن عبد الرحمن،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۱هـ .
[4] الفتاوى الحديثية:ص:174،دار المعرفة ـ بيروت .
[5] کشف الخفاء:1/104،رقم:300،مكتبة القدسى ـ القاهرة،الطبعة1351هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: چرخے کے کاتنے کی آواز پر کلمہ لا الہ الا اللہ کہنے کے برابر ثواب، اور عورت کے اپنے شوہر اور بچوں کےلئے کپڑا کاتنے پر ہر دھاگے کے بدلہ ایک ایک نور اور ہر کپڑے کے بدلہ ایک لاکھ بیس ہزار شہروں کا ملنا۔
روایت: ’’سورۂ یاسین کا نام تورات میں معمہ ہے کہ اپنے پڑھنے والے کےلئے دنیا وآخرت کی بھلائیوں پر مشتمل ہے، اور یہ دنیا وآخرت کی مصیبت کو دور کرتی ہے، اور آخرت کی ہَول کو دور کرتی ہے، اس سورت کا نام رافعہ خافضہ بھی ہے یعنی مؤمنوں کے رتبے بلند کرنے والی اور کافروں کو پست کرنے والی‘‘۔
نیز اس میں یہ مضمون بھی ہے: ’’سورۂ یاسین کا سننا اللہ کے راستے میں بیس دینار خرچ کرنے کے برابر ہے، اور اس کا پڑھنا بیس حج کرنے کے برابر ہے، جس نے سورۂ یاسین لکھ کر اس کا پانی پی لیاتو یہ پڑھنے والے کے سینے میں ہزار یقین، ہزار نور، ہزار برکتیں، ہزار رحمتیں اور ہزار رزق داخل کرے گی، اور یہ سورت اس سے ہر قسم کی کھوٹ اور بیماری نکال دے گی‘‘۔
روایت: رسول اللہ ﷺ کے ذمہ ایک یہودی کا قرض، آپ ﷺ کا یہودی سے مہلت طلب کرنا، اور اس یہودی کا آپ ﷺ کو اپنے پاس قرض کی ادائیگی تک روکے رکھنا مہلت نہ دینا، اور آپ ﷺ کا اسی جگہ ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور اگلے روز صبح کی نماز بھی وہیں ادا کرنا، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اس پر رنج کا اظہار کرنا، آخر کار یہودی کا اسلام قبول کرنا۔
روایت : ایک غریب صحابی r کا اپنی بیٹی کی شادی کے موقع پر آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر معاونت کی درخواست کرنا، اور آپﷺ کا ان کو پسینہ مبارک عطا فرمانا، اس سے خوشبو کا پھیلنا، اور صحابی r کے خاندان کا خوشبو والے گھرانے سے مشہور ہوجانا۔
روایت: آپ ﷺ کا حضرت الیاس e سے ملاقات کرنا، اور حضرت الیاس e کا امت محمدیہ میں شمولیت کی دعا کرنا۔