روایت: ’’من تزيا بغير زيه فقتل فدمه هدر‘‘.جس نے کسی غیر کاروپ و بھیس اختیار کرلیاپھروہ قتل کردیاگیا تواس کا خون معاف ہے۔
حکم: حضرات محدثین کے مطابق اس کی ایسی کوئی اصل نہیں ہےجس پر اعتماد کیاجائے،اس لئے اسے آپﷺ کے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں ہے۔
تفصیل
روایت پر ائمہ رجال کا کلام
حوالہ جات
[1] المقاصدالحسنة:حرف الميم،ص:۴۶۶،رقم:۱۰۹۷،ت:عبدالله محمد الصديق،دارالكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة۱۴۲۷هـ .
[2] تمييزالطيب من الخبيث:ص:۱۸۱،رقم:۱۳۶۷،دارالكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۸هـ .
[3] اتقان مايحسن:ص:۴۴۸،رقم:۱۸۵۶،دارالكتب العلمية ـ بيروت .
[4] كشف الخفاء:۲/ ۲۸۲،رقم:۲۴۳۳،ت:يوسف بن محمود الحاج أحمد،مكتبة العلم الحديث ـ دمشق، ۱۴۲۱هـ .
[5] تذكرة الموضوعات:ص:۱۵۸،كتب خانه مجيديه ـ ملتان .
[6] أسنى المطالب:ص:۲۸۸،رقم:۱۳۷۶،دارالكتاب العربي ـ بيروت .
[7] الجدالحثيث:ص:۲۲۳،رقم:۴۹۰،ت:فواز أحمد زمرلي،دارابن حزم ـ بيروت .
[8] الأسرارالمرفوعة:ص:۳۲۵، رقم:۴۷۶،ت:محمد الصباغ،المکتب الإسلامی ـ بيروت،الطبعة۱۴۰۶هـ .
[9] المصنوع:ص:۱۸۱،رقم:۳۲۷،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مكتب المطبوعات الإسلامية ـ حلب،الطبعة ۱۴۱۴هـ .
[10] اللؤلؤ المرصوع:ص:۷۸،طبع بالطبعة البارونيةبالجدريةـ مصر.
[11] أنباء الغُمر بأنباء العُمر:۲/۷۶،سنة:۸۰۱ ،ت:حسن حبشي،إحياء التراث الإسلامي ـ القاهرة،۱۴۱۵هـ .
[12] تاريخ دمشق:۱۳/۲۲، دارالفكرـ بيروت،الطبعة۱۴۱۵هـ .
[13] أرواح ثلاثه:ص:۱۵،مكتبة عمر فاروق ـ كراتشی.
[14] تذكرة الرشيد:ص:۱/۱۰۰،إداره إسلاميات ـ لاهور.
ملتی جلتی احادیث
بے پردہ عورت جہنم میں بالوں کے بل لٹکائی جائے گی
روایت: حضرت سلمانr کو آپ ﷺ کا ترتیب وار چالیس احادیث بیان کرنا ،اور انہیں یاد کرنے پرانبیاء و علماء کے ساتھ حشر کی فضیلت۔
روایت : ’’نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :جوبالغہ عورت پردہ نہ کرے تواس کی نماز نہیں ہوتی‘‘۔
’’میں علم کا شہر ہو ں ،ابوبکرr اس کی بنیاد ،عمر r اس کی دیوار، عثمانr اس کی چھت اور علی r اس کا دروازہ ہیں‘‘۔
بعض روایتوں میں یہ الفاظ بھی ہیں : ’’معاویہ r اس کا حلقہ ہے ‘‘ ۔
’’أحبوا العرب لثلاث: لأني عربي، والقرآن عربي، وكلام أهل الجنة عربي‘‘. ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ عربوں سے تین باتوں کی وجہ سےمحبت کیا کرو، کیونکہ میں عربی ہوں، قرآن عربی میں ہے اور جنت والوں کی زبان عربی ہوگی‘‘۔