روایت :نبی اکرمﷺ نے فرمایا :مسجد میں ہنسنے سےقبر میں اندھیراہوتا ہے
حکم: باطل
تفصیل
حوالہ جات
[1] الفردوس بمأثور الخطاب:۲/۴۳۱،رقم:۳۸۹۱،ت:السعيد بن بسيوني زغلول،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة۱۴۰۶هـ. .
اہم وضاحت: ہم نے مذکورہ روایت کی سند علامہ احمدبن محمدبن صدیق غماری صاحب l کی ’’المداوی‘‘ سے نقل کی ہے(دیکھئے، المداوی:۴/ ۲۸۵،رقم:۲۱۸۴ ) ،اسی طرح علامہ ناصرالدین البانیl نے ’’سلسلة‘‘ میں اس روایت کو بسند عثمان بن عبداللہ سے اخیرتک لکھا ہے،دیکھئے: سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة:۸/ ۲۸۵ ،رقم : ۳۸۱۸.
[2] المجروحين:۲/۱۰۲،ت:محمود إبراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[3] الكامل في الضعفاء:۵/۱۷۶،رقم:۱۳۳۶،ت:يحيى مختار غزاوي،دارالفكرـ بيروت،الطبعة الثالثة ۱۴۰۴ هـ .
[4] لسان الميزان:۵/۳۹۷،رقم:۵۱۳۲،ت:عبدالفتاح أبوغدة،مکتبة المطبوعات الإسلامی ـ بيروت،الطبعة ۱۴۲۰هـ .
[5] تاريخ بغداد:۱۳/۱۶۱،رقم:۶۰۰۶،ت:دکتور بشار عواد،دارالغرب الإسلامی ـ بیروت،الطبعة ۱۴۱۲ هـ .
[6] سؤالات مسعود بن علي السجزي:ص:۸۲،رقم:۴۲،موفق بن عبد الله بن عبد القادر،دارالغرب الإسلامي ـ بيروت، الطبعة۱۴۰۸هـ .
[7] لسان الميزان:۵/۳۹۷،رقم:۵۱۳۲،ت:عبدالفتاح أبوغدة،مکتبة المطبوعات الإسلامی ـ بيروت، الطبعة ۱۴۲۰هـ .
[8] لسان الميزان:۵/۳۹۷،رقم:۵۱۳۲،ت:عبدالفتاح أبوغدة،مکتبة المطبوعات الإسلامی ـ بيروت، الطبعة ۱۴۲۰هـ .
[9] المداوی:۴/۲۸۵،رقم:۲۱۸۴،دارالكتب العلمية ـ بيروت .
ملتی جلتی احادیث
روایت: حضرت انس r کا تنور کی آگ سے آپ ﷺ کےرومال کے میل کچیل کو صاف کرنا،اور رومال کا نہ جلنا
حدیث ہریسہ ،جس میں ایک خاص کھانے ہریسہ کے استعمال کرنے پرقوتِ جماع وغیرہ پر تقویت کا ذکر ہے
ایک صحابی r کا حضور ﷺ کے فرمان پرچوتھے نکاح کے بعد وسعت پانا
ایک شخص حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ میں فقیر ہوں، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’نکاح کرلو‘‘ ۔ نکاح کے بعد اس نے پھر دوبارہ آکر کہا: میں فقیر ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’نکاح کرلو‘‘ ۔ یہاں تک کہ اس شخص نے آپ ﷺ کے فرمانے پر چار نکاح کرلئے، پھر اللہ نے اسے مالدار کردیا۔
’’میں علم کا شہر ہو ں ،ابوبکرr اس کی بنیاد ،عمر r اس کی دیوار، عثمانr اس کی چھت اور علی r اس کا دروازہ ہیں‘‘۔
بعض روایتوں میں یہ الفاظ بھی ہیں : ’’معاویہ r اس کا حلقہ ہے ‘‘ ۔
روایت: حضرت سلمانr کو آپ ﷺ کا ترتیب وار چالیس احادیث بیان کرنا ،اور انہیں یاد کرنے پرانبیاء و علماء کے ساتھ حشر کی فضیلت۔