التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ سوم)

ایک صحابی r کا حضور ﷺ کے فرمان پرچوتھے نکاح کے بعد وسعت پانا

ایک شخص حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ میں فقیر ہوں، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’نکاح کرلو‘‘ ۔ نکاح کے بعد اس نے پھر دوبارہ آکر کہا: میں فقیر ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’نکاح کرلو‘‘ ۔ یہاں تک کہ اس شخص نے آپ ﷺ کے فرمانے پر چار نکاح کرلئے، پھر اللہ نے اسے مالدار کردیا۔

حکم: مذکورہ روایت میں صرف ایک دفعہ نکاح کا ذکر تو روایت میں منقول ہے اور یہ قابلِ بیان ہے، اس کے بعد چوتھے نکاح تک کا ذکر سنداًنہیں ملتا، اس لئے اسے بیان نہ کریں ۔

تفصیل

ذیل میں ’’تاريخ بغداد‘‘ اور’’الكشف والبيان‘‘ کے حوالے سے یہ تحقیق لکھی جائے گی کہ روایت میں صرف ایک نکاح تک کا ذکر ہے۔

حوالہ جات

[1] تاريخ بغداد:۲/۲۳۳،رقم:۲۵۷،ت:الدكتور بشار عواد معروف،دارالغرب الإسلامي ـ بیروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .

[2] ’’تاريخ بغداد‘‘ کی مذکورہ سند چھ راویوں پر مشتمل ہے، ذیل میں ان تمام راویوں پر ائمہ حدیث کا کلام لکھا جائے گا:

1 أبوبكرمحمد بن الحسين بن الحسن القطان(۳۳۲هـ): ’’سير أعلام النبلاء‘‘ میں ہے: ’’الشيخ، العالم، الصالح، مسند خراسان ..... قال أبو عبدالله الحاكم: احْضَرُوني مجلسَه غير مرة، ولم يصح لي عنه شيء‘‘ . شیخ، عالم، صالح، مسند خراسان۔۔۔ ابو عبداللہ حاکم l فرماتے ہیں: لوگ مجھے کئی دفعہ ان کی مجالس میں لے گئے اور مجھے ان سے کوئی صحیح طریقہ تحمل حاصل نہیں ہے (سيرأعلام النبلاء: ۱۵/۳۱۸، مؤسسة الرسالةـ بيروت)۔

اہم تنبیہ: ’’سير أعلام النبلاء‘‘ کے موجودہ نسخہ میں حاکم نیسابوری l کا قول اسی طرح مذکور ہے، یعنی ’’ولم يصح لي عنه شيء‘‘. اور مجھے ان سے کوئی صحیح طریقہ تحمل حاصل نہیں ہے، البتہ ’’امام سمعانی نے ’’الأنساب‘‘ میں حاکم نیسابوری l کا کلام ان لفظوں سے ذکر کیا ہے: ’’ولم يحصل لي عنه شيء‘‘. مجھے ابوبکر محمد بن حسین سے کچھ بھی حاصل نہ ہوسکا۔اور قرین قیاس یہ ہے کہ ’’الأنساب‘‘ کی عبارت درست ہے، اور ’’سير أعلام النبلاء‘‘ کی عبارت میں تصحیف (تبدیلی ) واقع ہوئی ہے، واللہ اعلم (كتاب الأنساب : ۴/۵۲۰ ،دار الجنان ـ بيروت)۔

2 عبد الباقی بن قانع البغدادی الحافظ الحنفی: ’’سير أعلام النبلاء‘‘ میں ہے: ’’الإمام، الحافظ، البارع، الصدوق، إن شاء الله..... قال البَرقاني: البغداديون يوثّقونه، وهو عندي ضعيف، وقال الدارقطني: كان يحفظ، ولكنه يُخطيء ويُصِرُّ‘‘. امام، حافظ، بارع،صدوق ہے ان شاء اللہ ۔۔۔ برقانی l فرماتے ہیں کہ بغدادی علماء ان کی توثیق کرتے ہیں، البتہ میرے نزدیک عبد الباقی ضعیف راوی ہے، امام دار قطنی l فرماتے ہیں کہ عبدالباقی احادیث کو یاد کرتا تھا، لیکن حدیث میں غلطی کرتا تھا، اور پھر اس پر مُصِر رہتا تھا  (سيرأعلام النبلاء: ۱۵/۵۲۶، مؤسسة الرسالةـ بيروت)۔

3 أبوجعفر محمد بن أحمد بن نصر الترمذی الشافعی الزاهد(۲۹۵هـ): ’’سير أعلام النبلاء‘‘ میں ہے: ’’هوالإمام، العلامة، شيخ الشافعية بالعراق في وقته... قال الدار قظني: ثقة مامون ناسك‘‘. وہ امام، علامہ اپنے وقت میں عراق میں شیخ الشوافع تھے ۔۔۔دار قطنی l فرماتے ہیں کہ وہ ثقہ، مامون، عابد تھے (سيرأعلام النبلاء: ۱۳/۵۴۵، مؤسسة الرسالةـ بيروت)۔

4 إبراهیم بن المنذر بن عبد الله بن المنذر الأسدی الخزامی(۲۳۶هـ): حافظ ابن حجر l ’’التقريب‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’صدوق، تكلم فيه أحمد لأجل القرآن‘‘. وہ صدوق ہے، مسئلہ ’’خلقِ قرآن‘‘ کی وجہ سے امام احمد l نے ان کے بارے میں کلام کیا ہے (التقريب:ص:۹۴،رقم،۲۵۳،دارالرشيد ـ سؤريا)۔

5 سعید بن محمد المدنی: حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’قال أبوحاتم: ليس حديثه بشيء، وقال ابن حبان: لايجوزأن يحتج به‘‘. ابوحاتم l فرماتے ہیں کہ اس کی احادیث ’’لیس بشیء‘‘ ہے، اور ابن حبان l نے فرمایا کہ ان کی احادیث سے احتجاج درست نہیں ہے،اس کے بعد حافظ ذہبی l نے ’’تاريخ بغداد‘‘  کی مذکورہ روایت ذکر کی (ميزان الاعتدال:۲/۱۵۶،رقم،۳۲۶۲، دارالمعرفة ـ بیرت).

6 محمد بن المنکدر بن عبد الله بن الهدیر(۱۳۰هـ أوبعدها): ’’التقريب لابن حجر‘‘ میں ہے: ’’ثقة فاضل‘‘. (التقريب:ص:۵۰۸،رقم،۶۳۶۷ ،دارالرشيد ـ سؤريا).

[3] الكشف والبيان:سورة المؤمنون،الآية:۳۲،ت:أبومحمد بن عاشور،دار إحياء التراث العربي ـ بیرت، الطبعةالأولی۱۴۲۲هـ .

[4] سند میں کل پانچ راوی ہیں، جن کے احوال ذیل میں لکھے جائیں گے:

1 أبو عبد الله الحسين بن محمد بن الحسين بن عبدالله بن صالح بن شعيب بن فَنْجُوية الثقفي(۴۱۴ هـ): ’’سير أعلام النبلاء‘‘ میں ہے:  ’’الشيخ، الإمام،المحدث، المُفِيد، بَقِيَّة المشايخ .... قال شِيرُوَيه في تاريخه: كان ثقة صدوقا، كثيرالرواية للمناكير، حسن الخط، كثير التصانيف....‘‘. شیخ، إمام،محدث، مُفید، بقیۃ المشایخ ،شیرویہ اپنی ’’تاریخ ‘‘ میں لکھتے ہیں: وہ ثقہ، صدوق تھا، بہت کثرت سے مناکیر روایت کرتا تھا، وہ خوبصورت تحریر اور بہت سی تصانیف والا تھا (سيرأعلام النبلاء: ۱۷/۳۸۳،مؤسسة الرسالةـ بيروت)۔

2 محمد بن الحسن بن البشر: مجھے ترجمہ نہیں مل سکا۔

3 أبويوسف محمد بن سفيان بن موسى الصفار: موصوف کا ترجمہ حافظ ذہبی l نے ’’تاريخ الإسلام ‘‘ میں بلاجرح وتعدیل ذکر کیا ہے (تاريخ الإسلام: ۷/۸۱۳،رقم:۱۱۱۸۶،دار الكتب العلميةـ بيروت)۔

4 أحمد بن ناصح المِصِّيصِي أبوعبدالله: ’’التقريب للحافظ ابن حجر‘‘ میں ہے: ’’صدوق‘‘. (التقريب: ص:۸۵،رقم،۱۱۶،دارالرشيد ـ سؤريا).

5 عبد العزيز بن محمد بن عبيد الدَرَاوَرْدِي(۱۸۶هـ أو۱۸۷ هـ): ’’التقريب‘‘ میں ہے: ’’ صدوق كان يحدث من كتب غيره، فيخطيء، قال النسائي: حديثه عن عبيد الله العمري منكر ‘‘ .عبد العزیز صدوق ہے، وہ دوسروں کی کتابوں سے حدیثیں بیان کرتا تھا، جس میں خطاء کرتا تھا، امام نسائی l فرماتے ہیں کہ ان کی عبید اللہ عمری سے منقول احادیث منکر ہیں (التقريب: ۳۵۸،رقم،۴۱۱۹ ،دارالرشيد ـ سوريا)۔

6 محمد بن عجلان المدني(۱۴۸هـ): حافظ ابن حجر l ’’التقريب‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’صدوق إلا أنه اختلطت عليه أحاديث أبي هريرة ‘‘ . صدوق ہے، مگر حضرت ابوہریرہ r کی احادیث ان پر مختلط ہوگئی ہیں (التقريب: ص:۴۹۶، رقم، ۶۱۳۶ ،دارالرشيد ـ سؤريا)۔