التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

آیت: {يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا}. کی تفسیر میں نصوح نامی شخص کا قصہ بالکل غلط ہے۔

تفصیل

’’سوال: ایک شخص نے آیت:  {يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا}. کی تفسیر یوں بیان کی کہ نصوح ایک شخص تھا، اور وہ، جو ایک قصہ ڈپٹی نذیر احمد جج حیدرآباد نے اپنی کتاب ’’توبۃ النصوح ‘‘ میں تحریر کیا ہے، تائیدا ًبیان کیا۔

جواب: آیت کی تفسیر میں توبۂ نصوح کی،معنی نصوح کے  توبہ کرنا اور نصوح کسی شخص کا نام مقر ر کرنا، محض جہل وحماقت ہے، ترجمہ یہ ہے کہ توبہ خالص کرو، توبہ موصوف اور نصوح اس کی صفت ہے، اور یہ ترجمہ جہال کا، توبہ نصوح کی باضافت ہے، پس ایسی تفسیر کرنا اولاً جہل دوسرے تفسیر بالرائے ہے، ایسا شخص ہر گز قابل وعظ نہیں، اور قصہ جس نصوح کا لوگوں میں زبان زد ہے، وہ نزول قرآن شریف سے مدتوں پہلے پیدا ہوا ہے، الغرض یہ مفسر بالکل احمق ہے اور یہ تفسیر اس کی بالکل غلط ہے، فقط واللہ تعالیٰ اعلم!‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1]  باقیات فتاوی رشیدیہ : توبۂ  نصوح کا مفہوم کیا ہے ؟ ص: ۴۱۴، دار الکتاب  لاہور ۔