التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

حدیث قدسی: ’’تمام مخلوق میری رضا مندی طلب کرتے ہیں، اے محمدﷺ!اور میں تیری رضا طلب کرتاہوں‘‘، اس کی سند وصحت بندہ کو معلوم نہیں،اگرچہ اس کا معنی صحیح ہے۔

تفصیل

’’سوال:  ایک روایت بطور حدیثِ قدسی کے اس ملک میں مشہور ہے، اور بعض علماء کو دیکھا ہے کہ خطبے میں بھی پڑھتے تھے، اور بعض رسالوں میں بھی اس کو دیکھا گیا ہے، یہاں تک کہ  ’’تکمیل الایمان‘‘ تصنیف شیخ عبد الحق محدث دہلویl میں بھی تحتِ مسئلۂ شفاعت مندرج ہے، مگر کسی جگہ اس کی سند نہیں دیکھی گئی، اور نہ کسی کتاب حدیث شریف سے منقول پایا، اور وہ روایت یہ ہے:  {همه خلق رضائي من طلبند أي: محمد صلى الله عليه وسلم، ومن رضائى تو طلبم، كلهم من لدن العرش إلى تحت الأرضين يطلبون رضائي وأنا أطلب رضاءك يا محمد صلى الله عليه وسلم!} [تمام مخلوق میری رضا مندی طلب کرتے ہیں، اے محمدﷺ!اور میں تیری رضا طلب کرتاہوں،اور سب عرش سے لے کر زمینوں کے نیچے تک رہنے والے میری رضا طلب کرتے ہیں،اور میں تیری رضا طلب کرتا ہوں،اے محمد!].              

جواب: اس کی سند وصحت بندہ کو معلوم نہیں، اور جو اس کے معنی آیت:  {ولسوف یعطيك ربك فترضى} [اور عنقریب تجھ کو تیرا خدا عطا فرماوے گا کہ اس سے تو راضی ہو جائے گا] کے، لئے جاویں تو معنی صحیح ہیں، واللہ تعالیٰ اعلم!‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1] تالیفات رشیدیہ : حضور کی رضامندی کا مطلب، ص: ۱۶۲، ادارہ اسلامیات لاہور ۔