روایت: مسنون دعا:’’اللّهم أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعه،وأرنا الباطل باطلا وارزقنا اجتبابه‘‘.’’اےاللہ! ہمیں حق کا حق ہونا دکھا کر اس کی پیروی کی توفیق عطاء کر،اور باطل کا باطل ہونا دکھا کر اس سے بچنے کی توفیق عطاء کر‘‘۔
حکم: حافظ عراقی l فرماتے ہیں کہ ’’میں اس روایت کی کسی اصل پرمطلع نہیں ہوسکا ہوں‘‘ انتہی، اس لئے اسے آپ ﷺ کی جانب منسوب کرنادرست نہیں ہے، البتہ بعض مقامات پر اسے حضرت ابوبکرr اورحضرت عمر r کے قول کے طور پر بھی نقل کیا گیا ہے، چنانچہ ان حضرات کیجانب ان کے ذکر کردہ الفاظ سے اسے منسوب کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اہم نوٹ: واضح رہے کہ ذیل میں اس دعا کی بحیثیتِ حدیث تحقیق ذکر کی جائے گی۔
تفصیل
یہ روایت مرفوعاً و موقوفاً دونوں طرح سے منقول ہے:
مرفوع طریق
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] إحياء علوم الدين:2/369،دار المعرفة - بيروت .
[2] تفسير ابن كثير:۱۰/۵۷۱،ت:سامي بن محمد سلامة،دار طيبةـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۲۰هـ .
حافظ ابن کثیر l ہی نے درج بالا الفاظ سے پہلے ’’صحیحین‘‘کی اس ذیلی حدیث کا ذکر کیا ہے،جس میں زیرِ بحث روایت جیسی دعا کے الفاظ بھی ہیں،چنانچہ ایسے موقع پریہ دعا مانگیں،الفاظ یہ ہیں:’’وفي صحيح البخاري ومسلم عن عائشة:أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا قام من الليل يصلي يقول:اللّهم رب جبريل وميكائيل وإسرافيل! فاطر السموات والأرض! عالم الغيب والشهادة! أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون، اهدني لما اختلف فيه من الحق بإذنك، إنك تهدي من تشاء إلى صراط مستقيم‘‘. اور صحیح بخاری ومسلم l میں عائشہ R سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو بیدار ہوتے تو نماز پڑھتے،یہ دعا فرماتےتھے:اے اللہ!اے جبرائیل e،مکائیلe واسرافیل e کے رب!آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے!چھپی ہوئی اور آشکارہ چیزوں کے جاننے والے !آپ بندوں کی اختلافی چیزوں میں فیصلہ فرمائیں گے،آپ اپنے حکم سے حق میں اختلاف کی صورت میں میری رہنمائی فرمادیجئے،بے شک آپ جس کی چاہیں سیدھے راستے کی جانب رہنمائی فرماتے ہیں۔
[3] منهاج السنة:1/19،ت:محمد رشاد سالم،جامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية،الطبعة الأولى ۱۴06هـ .
حافظ ابن تیمیہ l کے ذکر کردہ الفاظ یہ ہیں:’’اللّهم أرني الحق حقا، ووفقني لاتباعه، وأرني الباطل[باطلا، ووفقني لاجتنابه، ولا تجعله] مشتبها علي، فأتبع الهوى‘‘.
[4] المغني عن حمل الأسفار:ص:643،رقم:2406،دار المعرفة ـ بيروت .
[5] طبقات الشافعية الكبرى:6/325،ت:محمود محمد الطناحي،عبد الفتاح محمد الحلو،هجر للطباعة والنشر، الطبعة الثانية1413هـ .
[6] قوت القلوب:ص:366،ت:محمود إبراهيم محمد الرضواني،مكتبة دار التراث ـ القاهرة،الطبعة الأولى ۱۴22هـ .
[7] إحياء علوم الدين:4/401،دار المعرفة ـ بيروت .
[8] شرح منتهي الإرادات:3/497،عالم الكتب ـ بيروت،الطبعة الأولى1414هـ .