روایت: ’’ابو ذرrکو آ پ ﷺ کا چار باتوں کی وصیت فرمانا‘‘، یہ روایت اب تک باوجود تلاش بسیار کے نہیں ملی۔
تفصیل
’’سوال: ×قال أبو ذر رضي الله تعالى عنه: أوصاني خليلي صلى الله عليه وسلم بأربع كلمات، هن أحب إليّ من الدنيا وما فيها، قال: يا أباذر! أحْكِم السفينة فإن البحر عميق، واستكثر الزاد فإن السفر طويل، وخَفِّف ظهرك فإن العقبة كَئوُد، وأخلص العمل فإن الناقد بصير÷.
[ابوذر r کا ارشاد ہے: مجھے میرے خلیلﷺ نے چار باتوں کی وصیت فرمائی، یہ باتیں مجھے دنیا ومافیہا سے زیادہ محبوب ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابوذر ! کشتی خوب مضبوط بناؤ کہ سمندر بہت گہرا ہے، اور توشہ خوب ساتھ لو کہ سفر بہت لمبا ہے، اور کمر ہلکی رکھو کہ گھاٹی دشوار گذار ہے، اور عمل کو خالص رکھو کہ پر کھنے والا خوب نظر والا ہے]
جواب: یہ روایت اب تک باوجود تلاش بسیار کے نہیں ملی‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیۃ: ۱۹، احادیث کی تحقیق،۲/۱۲۴۔
حافظ دیلمی l نے ’’الفردوس بماثور الخطاب‘‘ (۵/ ۳۳۹،رقم:۸۳۶۸)میں،حافظ ابن حجر مکی ہیتمیl نے ’’الزواجر عن اقتراف الكبائر‘‘ (۱/۴۲) میں،علامہ اسماعیل حقی استنبولی l نے ’’تفسير روح البيان‘‘ (۱/ ۴۲۸ ) میں یہی روایت بلا سند ذکر کی ہے۔