التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا محمد یونس جونپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

روایت: ×کان النبي صلى الله عليه وسلمإذا تغدّى تمدّى، وإذا تعشّى تمشّى÷؟ (آپ ﷺ دوپہر کو کھانا کھا کر لیٹ جاتے تھے، اور شام کا کھانا کھا کر چلتے تھے)اس کی اصل نبی ﷺ کے زمانے میں موجود عرب کے طبیب حارث بن کَلَدَہ کے کلام میں ملی۔

تفصیل

’’سوال: کیا یہ حدیث میں وارد ہوا ہے : ×کان النبي صلى الله عليه وسلمإذا تغدّى تمدّى، وإذا تعشّى تمشّى÷؟ [آپ ﷺ دوپہر کو کھانا کھا کر لیٹ جاتے تھے، اور شام کا کھانا کھا کر چلتے تھے]

جواب:  ×لا أعلم له أصلا، لا في المرفوع ولا في الموقوف، ثم وجدت أصله عن الحارث بن کَلَدَة الثَقَفِي طبیب العرب في زمان النبي صلى الله عليه وسلم، قال الحافظ ابن حجر في الإصابة (ص:۳۰۲/۱): روى داود بن سعید عن عمرو بن معروف قال: لما احتضر الحارث اجتمع الناس إلیه، فقالوا: أوصنا، فقال : لاتتزوجوا إلا شابّة، ولا تأکلوا الفاکهة إلا نضجة، ولا یتعالجن أحدکم ما احتمل بدنه الداء، وعلیکم بالنُورَة في کل شهر فإنها مذهبة البلغم، ومن تغدّى فلْینَم بعده، ومن تعشّى فلیمش أربعین خطوة.

واختلف في إسلامه، فقال ابن أ بي حاتم : لايصح إسلامه، وذكره الحافظ في القسم الأول من الإصابة، فإن ثبت إسلامه فهذا قول صحابي، والله أعلم[1]÷.‘‘

[(حضرت جونپوریlکی عبارت کا حاصل یہ ہے کہ) مجھے اس روایت کی مرفوع، موقوف،کوئی اصل معلوم نہیں ہے، پھر بعد میں اس کی اصل نبی ﷺ کے زمانے میں موجود عرب کے طبیب حارث بن کَلَدَہ کے کلام میں ملی، حافظ ابن حجر l ’’اصابہ‘‘ میں فرماتے ہیں: داؤد بن سعید، عمرو بن معروف سے نقل کرتے ہیں کہ جب حارث کے انتقال کا وقت قریب ہوا تو لوگ اس کے پاس جمع ہوگئے اور کہا کہ آپ ہمیں وصیت کیجئے، حارث نے انھیں نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ نکاح صرف جوان عورت سے کرو، پھل ہمیشہ پکا ہوا کھاؤ، اور جب تک بدن مرض برداشت کرے اس وقت تک علاج(دوا) ہر گز نہ کرواؤ، اور ہر ماہ داغ لگوایا کرو،کیونکہ یہ بلغم کو ختم کرتا ہے، اور جو دوپہر کا کھانا کھائے وہ اس کے بعد سوجایا کرے، اور جو شام کا کھاناکھائے وہ چالیس قدم چل لیا کرے۔

(حضرت جونپوری lفرماتے ہیں)حارث کے اسلام میں علماء کا اختلاف ہے، ابن ابی حاتم l فرماتے ہیں کہ ان کا اسلام لانا صحت کے ساتھ ثابت نہیں ہے، البتہ حافظ (ابن حجر l) نے انہیں ’’اصابہ‘‘ میں قسم اول میں شمار کیا ہے، اگر ان کا اسلام ثابت ہے تو یہ(زیرِ بحث قول) صحابی کا قول ہے، واللہ اعلم ]۔

حوالہ جات

[1] الیواقیت الغالیۃ: اذا تغدی تمدی الخ، کیا یہ حدیث ہے ؟ ۱/۱۶۳، ۱۶۴ ۔