التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

باب: معراج

واقعۂ معراج کی تفصیلات اور اس سے منسوب بے اصل باتیں۔

گروپ: سیرت

9 روایات

  1. روایت: ’’ آپ ﷺ نے فرمایا : میں نے معراج کی رات اپنی امت کی کچھ عورتوں کو مختلف قسم کے عذاب میں مبتلا پایا: 1 ایک عورت پردہ نہ کرنے کی وجہ سے بالوں کے بل لٹکائی گئی تھی 2 ایک عورت شوہر کو تکلیف دینے کی وجہ سے زبان کے بل لٹکائی گئی تھی 3 غسل جنابت، غسل حیض نہ کرنے اور نماز کا مذاق اڑانے کی وجہ سے ایک عورت کے پیر اس کے پستانوں سے اور ہاتھ پیشانی سے بندھے ہوئے تھے 4 شوہر کے بستر میں ایذاء کا سبب بننے کی وجہ سے ایک عورت پستانوں کے بل لٹکائی گئی تھی 5 چغل خوری اور جھوٹ بولنے کی وجہ سے ایک عورت کاسر خنزیر کے سر کی طرح، جسم گدھے کے جسم کی طرح تھا 6 احسان جتلانے اور حسد کرنے کی وجہ سے ایک عورت کی شکل کتے کی شکل کی طرح تھی‘‘۔

  2. روایت: ’’معراج کے موقع پر نبی اکرمﷺ نے دیکھاکہ کچھ عورتیں کتوں کی مانند چیخ رہی ہیں، آوازیں نکال رہی ہیں، نوحہ کررہی ہیں اور ان کا برا حال ہے، نبی اکرمﷺ نے جبریل امین eسے پوچھا: یہ کون ہیں؟ فرمایا: یہ وہ عورتیں ہیں جو دنیا میں اپنے خاوندوں کے ساتھ زبان درازی کرتی تھیں، آج اللہ تعالی نے انھیں یہ سزا دی کہ یہ کتوں کی مانند آوازیں نکال رہی ہیں‘‘۔

  3. ’’آپﷺ کا معراج کے موقع پر پیر صاحب کے کندھا دینے کے اعزاز میں یہ فرمانا کہ جا اے محی الدین !تیرے قدم سب اولیاؤں کی گردن پر‘‘، یہ بالکل غلط اور جھوٹ ہے اور اس کا گھڑنے والا ملعون ہے۔