روایت: ’’ آپ ﷺ نے فرمایا : میں نے معراج کی رات اپنی امت کی کچھ عورتوں کو مختلف قسم کے عذاب میں مبتلا پایا: 1 ایک عورت پردہ نہ کرنے کی وجہ سے بالوں کے بل لٹکائی گئی تھی 2 ایک عورت شوہر کو تکلیف دینے کی وجہ سے زبان کے بل لٹکائی گئی تھی 3 غسل جنابت، غسل حیض نہ کرنے اور نماز کا مذاق اڑانے کی وجہ سے ایک عورت کے پیر اس کے پستانوں سے اور ہاتھ پیشانی سے بندھے ہوئے تھے 4 شوہر کے بستر میں ایذاء کا سبب بننے کی وجہ سے ایک عورت پستانوں کے بل لٹکائی گئی تھی 5 چغل خوری اور جھوٹ بولنے کی وجہ سے ایک عورت کاسر خنزیر کے سر کی طرح، جسم گدھے کے جسم کی طرح تھا 6 احسان جتلانے اور حسد کرنے کی وجہ سے ایک عورت کی شکل کتے کی شکل کی طرح تھی‘‘۔
باب: معراج
واقعۂ معراج کی تفصیلات اور اس سے منسوب بے اصل باتیں۔
گروپ: سیرت
9 روایات
روایت: ’’معراج کے موقع پر نبی اکرمﷺ نے دیکھاکہ کچھ عورتیں کتوں کی مانند چیخ رہی ہیں، آوازیں نکال رہی ہیں، نوحہ کررہی ہیں اور ان کا برا حال ہے، نبی اکرمﷺ نے جبریل امین eسے پوچھا: یہ کون ہیں؟ فرمایا: یہ وہ عورتیں ہیں جو دنیا میں اپنے خاوندوں کے ساتھ زبان درازی کرتی تھیں، آج اللہ تعالی نے انھیں یہ سزا دی کہ یہ کتوں کی مانند آوازیں نکال رہی ہیں‘‘۔
معراج میں ’’التحیات‘‘ کا واقعہ
حضورﷺ کا معراج میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میںعاجزی کا تحفہ پیش کرنا
باری تعالی کا نبی ﷺ کو معراج کے موقع پر فرمانا کہ آپﷺجوتوں سمیت عرش پر آجائیں
ایک یہودی کا معراج کے واقعہ سے انکار پر عورت اورپھر مرد بن جانا
’’آپﷺ کا معراج کے موقع پر پیر صاحب کے کندھا دینے کے اعزاز میں یہ فرمانا کہ جا اے محی الدین !تیرے قدم سب اولیاؤں کی گردن پر‘‘، یہ بالکل غلط اور جھوٹ ہے اور اس کا گھڑنے والا ملعون ہے۔
روایت: ’’معراج کے موقع پر باری تعالیٰ کا فرمان کہ آپ(ﷺ)جوتے نہ اتاریں،جوتوں سمیت آجائیں‘‘، یہ روایت بے اصل معلوم ہوتی ہے۔
روایت: ”شب معراج میں حضور ﷺ کو نوے ہزار علوم عطا کئے گئے تھے، جن میں تیس ہزار خاص حضرت علی r کو عطا ہوئے ۔۔۔“، یہ گھڑی ہوئی روایت ہے۔