روایت: نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’سين بلال عند الله شين‘‘. بلال کا سین بھی اللہ کے نزدیک شین ہے۔بعض مقامات پر یہ روایت ان الفاظ سے ہے:’’إن بلالا كان يبدل الشين في الأذان سينًا‘‘. بلال r اذان میں شین کو سین سے بدل دیتے تھے۔
حکم: یہ بے اصل ہے۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] المغني:۲/ ۹۰، ت:عبد الله التركي و عبد الفتاح الحلو، دار عالم الكتب - الرياض، الطبعة: ۱۴۱۷ هـ.
[2] المقاصد الحسنة:ص:۲۸۸،رقم:۵۸۰، ت:عبداللطیف حسن، دار الكتب العلمية- بيروت، ط:۱۴۲۷ هـ .
[3] تذكرة الموضوعات: ص:۱۰۱،كتب خانة مجيدية– ملتان .
[4] كشف الخفاء:ص:۵۳۰،رقم:۱۵۲۰، ت:يوسف بن محمود، مكتبة العلم الحديث - جدة، ط: ۱۴۲۱ هـ .
[5] كشف الخفاء:ص: ۲۶۰،رقم:۶۹۵، ت:يوسف بن محمود، مكتبة العلم الحديث - جدة، ط: ۱۴۲۱ هـ .
[6] اللؤلؤ الموصوع:ص:۱۰۰، رقم:۲۶۲، ت: فواز أحمد زمرلي، دار البشائر الإسلامية- بیروت، ط: ۱۴۱۵ هـ. .
ملتی جلتی احادیث
حضرت بلالr نے اذان نہیں دی توصبح نہیں ہورہی تھی
روایت:حضرت بلال r کی قسم پر سحری کے وقت کاختم ہونا
روایت: ’’من استوى يوماه فهو مغبون‘‘. جس شخص کے دونوں دن (اعمال کے اعتبار سے) برابر ہوں وہ شخص خسارے میں ہے ۔
وضوء کے بعد : ’’ إنا أنزلناه فى ليلة القدر‘‘پڑھنے كے مختلف فضائل
روایت: ’’عن عائشة قالت: بينا رأس رسول الله صلى الله عليه وسلم في حِجري ليلة ضاحية إذ قلت: يا رسول الله! هل يكون لأحد من الحسنات عددُ نجوم السماء؟ قال: ’’ نعم عمر‘‘. قلت: فأين حسنات أبي بكر؟ قال: ’’إنما جميع حسنات عمر كحسنة واحدة من حسنات أبي بكر‘‘.
ترجمہ: حضرت عائشہ R سے روایت ہے،فرماتی ہیں: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ روشن رات میں رسول اللہ ﷺ کا سر مبارک میری گود میں تھا، اس دوران میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! کیا کسی شخص کی ستاروں کی تعداد کے برابر نیکیاں ہو سکتی ہیں؟ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ہاں عمر کی ‘‘۔میں نےعرض کیا:پھر ابو بکر r کی نیکیاں کہاں گئیں؟حضور ﷺ نے فرمایا: ’’عمر کی تمام نیکیاں ابو بکر کی ساری نیکیوں میں سے ایک نیکی کے برابر ہے‘‘۔