روایت:مال داروں، مصیبت زدہ، نوجوانوں، غلاموں اور فقیروں سے اللہ تعالی کے حقوق کی کوتاہی سے متعلق قیامت کے دن سوال کا ہونا، اور حضرت سلیمان e کا بادشاہت، حضرت ایوب e کا ان کی بیماری،حضرت یوسف e کا خوبصورتی اور غلامی، حضرت عیسی e کا فقر کے باوجود اللہ تعالی کے ذکر سے غافل نہ ہونا۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] انظر مجموعة رسائل الإمام الغزالي:ص:574،ت:إبراهيم أمين محمد،مكتبة التوفيقية ـ مصر .
[2] كتاب التذكرة بأحوال الموتى:1/698،ت:الصادق بن محمد بن إبراهيم،دار المنهاج ـ الرياض،الطبعة الأولى1425هـ .
[3] حلية الأولياء:2/۲۸۸،دار الفكرـ بيروت،الطبعة1416هـ .
[4] شعب الإيمان:۱۲/۳۵۳،رقم:۹۵۲۷ ،ت:مختار أحمد الندوي،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1423هـ .
[5] تاريخ دمشق:۱۵/۸۲،ت:عمر بن غرامة العمروي،دار الفکر ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱8هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت:حضرت نوح e کی کشتی میں دیمک کی وجہ سے نقصان کا ہونا اور اس کی حفاظت کے لئے کشتی کے چاروں کونوں پر حضرت ابو بکر r، حضرت عمر r، حضرت عثمان r، حضرت علی r کا نام لکھنا۔
روایت: حضرت ایوب e سے ان کی بیماری کے ایام کے بعد پوچھا گیا کہ یہ صحت کا زمانہ اچھا ہے یا وہ بیماری کا زمانہ اچھا تھا؟ حضرت ایوب e نے فرمایا: صحت بھی اللہ تعالی کی نعمت ہے، اور بیماری بھی اللہ تعالی کی نعمت ہے، لیکن ایک عجیب بات ہے کہ جب میں بیمار تھا اور صبح ہوتی تو اللہ رب العزت پوچھتے تھے کہ ایوب تیرا کیا حال ہے؟ مجھے اس بات سے اتنی لذت ملتی تھی کہ پورا دن مجھے کوئی تکلیف نہیں ہوتی تھی، اور جب شام ہوتی تو اللہ تعالی پھر عیادت فرماتے تھے کہ ایوب تیرا کیا حال ہے؟ اس سے ساری رات مجھے کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی، بیماری تو چلی گئی لیکن اللہ رب العزت کی عیادت کرنے کا لطف اور مزہ مجھے آج بھی یاد آتا ہے۔