حضرت ابوبکر r کے اونٹ گم ہوجا نے پر آپﷺ کا تکبیرِ اولیٰ کیاہمیت کو اجاگر کرنا
تفصیل
روایت:
حضرت ابو بکر صدیقr کے اونٹ گم ہو گئے آپr بہت غم زدہ ہوئے، نبی اکرم ﷺآپ rکے پا س آئے اورآپ ﷺ نےحضرت ابوبکرr کو غمگین پا یا،ابو بکرصدیق r سے اس کی وجہ پوچھی، انہوں نے ساری بات بتادی، نبی اکرمﷺ نے فرمایا:‘‘میرا تویہ خیال تھاکہ تمہاری تکبیر ِاولی فوت ہوگئی ہے‘‘،ابوبکرr نے کہا: تکبیرِ اولیٰ کا ثواب اتنا زیادہ ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’تکبیر ِاولیٰ کا ثواب تو دنیا و مافیہا سے بہتر ہے‘‘۔
اس روایت کو علامہ عبدالرحمن صفوری شافعیl نے ’’نزهة المجالس‘‘[1] میں بلاسند اس طرح سے ذکرکیا ہے، آپ لکھتے ہیں:
’’أخذ اللصوص لأبي بكر الصديق رضي الله عنه أربع مائة بعير وأربعين عبدا، فدخل النبي صلى الله عليه وسلم فرآه حزينا، فسأله فأخبره، فقال: ظننت أنه فاتتك تكبيرة الإحرام، فقال: يا رسول الله! وفواتها أشد؟ قال: ومن ملء الأرض جِمَالا. وفي الخبر: من فاته تكبيرة الإحرام، فقد فاتته تسع مائة وتسع وتسعون نعجة في الجنة، قرونها من ذهب، ذکره النیسابوری‘‘.
ترجمہ: ابو بکرصدیق r کےچارسو اونٹ(۴۰۰) اور چالیس غلاموں(۴۰) کو چور لے گئے، آپﷺابوبکرr کے پاس آئے اور انہیں غمگین پایا، آپﷺ نے ان سے پوچھا تو انہوں نے ساری بات گوش گزار کردی،آپﷺ نے فرمایا: ’’میرا خیال تھا کہ آپ کی تکبیرِ اولیٰ فوت ہوگئی‘‘،ابو بکرr نے کہا: اے اللہ کے رسول !تکبیرِ اولیٰ کا فوت ہونا اتنا سخت ہے،آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تکبیرِاولیٰ کا فوت ہوجانا زمین بھر اونٹ لٹ جانےسے زیادہ سخت ہے‘‘۔
ایک روایت میں آیا ہے کہ آپﷺنےفرمایا: جس کی تکبیرِ اولیٰ فوت ہو جائے تو اس کی جنت سے نوسو ننانوے(۹۹۹) ایسی بھیڑیں جن کے سینگ سونے کےہیں فوت ہوگئیں،اسے نیشاپوری lنے ذکر کیا ہے۔