روایت:بد نظری کی وجہ سے اللہ تعالی کے دیدار سے محروم ہونا ۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] الزهر الفائح في ذكر من تنزه عن الذنوب والقبائح:ص:31،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت:’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: جس بندے نے ایسی جگہ پر نگاہ ڈالی جہاں پر نگاہ ڈالنے سے منع کیا گیا ہے، تو اسے ایک نظر کے بدلے میں جہنم میں چالیس سال تک جلنا پڑے گا‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: جس نے کسی اجنبی (غیر محرم) عورت کی طرف دیکھا تو قیامت کے دن اس کی آنکھ میں انگارے ڈالے جائیں گے، اور ایک اور حدیث پاک میں ہے کہ اس کی آنکھ میں قیامت کے دن فرشتے لوہے کی سلاخیں ڈالیں گے‘‘۔
روایت:جنتیوں کا تین سو سال تک باری تعالی کا دیدار کرنا۔
روایت:جنتی جنت میں اللہ تعالی کا پہلا دیدار آٹھ لاکھ برس تک کرتے رہیں گے۔
روایت:مال داروں، مصیبت زدہ، نوجوانوں، غلاموں اور فقیروں سے اللہ تعالی کے حقوق کی کوتاہی سے متعلق قیامت کے دن سوال کا ہونا، اور حضرت سلیمان e کا بادشاہت، حضرت ایوب e کا ان کی بیماری،حضرت یوسف e کا خوبصورتی اور غلامی، حضرت عیسی e کا فقر کے باوجود اللہ تعالی کے ذکر سے غافل نہ ہونا۔