روایت: ’’حضرت ابو دجانہ r ایک صحابی ہیں، وہ فجر کی نماز پڑھتے، اور نماز پڑھنے کے بعد جلدی اپنے گھر چلے جاتے تھے، نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں فجر کی محفل میں شرکت نہیں کرتے تھے، کسی نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ ابو دجانہ r پتہ نہیں کس حال میں ہے کہ جلدی چلا جاتا ہے، جب نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم جلدی کیوں چلے جاتے ہو؟ تو وہ کہنے لگے: اے اللہ کے نبی ﷺ! میرے ہمسائے کے گھر میں ایک درخت ہے جس پر پھل لگے ہوئے ہیں، مگر اس کی کچھ شاخیں میرے گھر پر آتی ہیں، اور جب رات ہوتی ہے تو شاخوں سے پھل میرے گھر میں گر جاتے ہیں، میں فجر کی نماز پڑھ کر جلدی آتا ہوں، تا کہ ان پھلوں کو اٹھا کر اس آدمی کے گھر واپس ڈال دوں، ایسا نہ ہو کہ میرے بچے جاگ جائیں، اور بلا اجازت دوسرے کے پھل کھانے کے گناہ میں ملوث ہوجائیں۔۔۔‘‘۔ | | Tehqeqat-e-hadees